WE News:
2026-07-24@07:36:36 GMT

تبدیل ہوتا سیکیورٹی ڈومین آئینی ترمیم کی وجہ؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

27ویں آئینی ترمیم پر اپوزیشن کوئی ’خاص ات‘ چکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے یہ وہم کرنا بنتا نہیں ہے کہ اپوزیشن کی سیاپا اور احتجاج کرنے کی صلاحیت میں کمی آ گئی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپوزیشن میں داد شجاعت دینے کو تیار بیٹھے ہوں۔ اک ٹوکن سے احتجاج کے ساتھ ترمیم سینیٹ سے پاس ہوگئی۔

حکومت کو دو ووٹ کی کمی تھی جو اپوزیشن سے فراہم ہو گئے، کسی ستم ظریف کا تبصرہ ہے کہ جنہوں نے پیسے دے کر ووٹ خریدا تھا ان پر پارٹیاں اب ووٹ بیچنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ ادھر رک کر ہم سب گول مال ہے گا سکتے ہیں۔ 27 ویں ترمیم پی ٹی آئی کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھی۔ اس پارٹی کو رگڑنے چمکانے پچکارنے کو جتنے آئینی جگاڑ درکار تھے وہ پہلے ہی حوالدار بشیر نے اپنا دماغ لڑا کر لگا لیے تھے۔ اس لیے پی ٹی آئی کا رویہ بھی کرو جو کرنا ہے، ہمیں کیا قسم کا ہی رہا۔

آرٹیکل 243 کی شق 4 اور 7 میں ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کا نام تبدیل کرکے کمانڈر آف ڈیفنس فورسزکردیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی تجویز پر ایئرچیف اور نیول چیف کی طرح کمانڈرآف ڈیفنس فورسز کا تقرر کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم ہو جائےگا۔

آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل کو آرٹیکل 248 کے تحت قانونی استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت جس افسر کو فیلڈ مارشل، ایئر مارشل یا ایڈمرل چیف کے رینک پر ترقی دے گی، اس کی مراعات اور وردی تاحیات رہیں گی۔ ان عہدوں پر ترقی پانے والوں کو قومی ہیرو تصور کیا جائے گا۔ ان کو آرٹیکل 47 کے تحت 2 تہائی اکثریت سے ہی اپنے عہدوں سے ہٹایا جا سکے گا۔

ان ترامیم کے ذریعے کمانڈر آف ڈیفنس فورس کا جو عہدہ تشکیل دیا گیا ہے، اس پر تقرری بری فوج سے ہی ہوگی یعنی آرمی چیف ہی تینوں فورسز کا کمانڈر ہوگا۔ کوآرڈینیشن، تکنیکی مسائل اور سینٹرل کمانڈ کے اسٹرکچر کو نئے تقاضوں کے مطابق آئندہ کے لیے طے کر دیا گیا ہے۔

اس آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات پر اصل روک لگائی گئی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، سپریم کورٹ کو حاصل از خود نوٹس لینے کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔ ججوں کے شوق سیاست اور اعلیٰ عدلیہ کی پارلمیانی امور میں مداخلت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے سیاستدانوں نے اپنے سارے بدلے اس ایک ترمیم کے ذریعے سیاسی ججوں اور عدالت سے لے لیے ہیں۔

آئینی ترمیم پر شریکوں کے ہاں ہونے والی بحث دلچسپ ہے۔ انڈیا اور افغانستان میں فوج کے سیاست، حکومت اور ریاست پر کنٹرول بڑھنے کا سیاپا کیا گیا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ جو کرنا ہوتا ہے اور جو نیت ارادہ ہوتا ہے وہ کبھی تحریری معاہدوں میں لکھ کر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ معاہدوں کی تحریر (یہاں آپ آئین پڑھ لیں) وہ راستہ بتاتی ہے جس پر چل کر آئندہ فیصلے اور لائحہ عمل تشکیل پاتے ہیں۔

افغانستان کا میڈیا اگر پاکستانی آئینی ترمیم پر تبصرے کرتے ہوئے فوج کا کردار بڑھنے کی بات کر رہا ہے تو اس لطیفے پر ہنسنا بنتا ہے۔ جن کا اپنا کوئی آئین نہیں نہ جمہوریت کا ان کے جاری نظام سے کوئی واسطہ ہے، ان کو پاکستانی جمہوریت کا بخار چڑھ رہا ہے۔ چکر یہ ہے کہ جب امریکا منرل کو سیکیورٹی ڈومین میں لے آئے تو سوچنا بنتا ہے۔ پاکستان بھی منرل کو سیکیورٹی ڈومین میں ہی لائے گا۔ ہمیں انویسٹمنٹ، کنیکٹیوٹی اور انرجی کو بھی اسی ڈومین میں رکھنا ہوگا۔ سی پیک شروع کرنے کے بعد جتنے چیلنج آئے ان میں نمایاں کیا سیکیورٹی چیلنجز نہیں تھے؟۔

موجودہ قوانین اور اس عدالتی مزاج کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف لڑائی جیتی تو چھوڑیں لڑی بھی جا سکتی ہے۔ بلوچستان یا خیبر پختونخوا میں عدالتوں نے دہشتگردی کے مقدمات کے حوالے سے کیا کارکردگی دکھائی؟۔ اگر آئنی ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ کام آگئی ہے تو اس کی وجہ خود سیاسی ججوں کی اپنی محنت اور کرامتیں ہیں۔

سرمایہ کاری منصوبوں پر جس طرح اعلیٰ عدلیہ انصاف کا ہتھوڑا چلاتی رہی ہے، اس کے بعد کون سی سرمایہ کاری ان عدالتوں اور اس مزاج کے ساتھ ہونی ممکن تھی۔ ہمارے شریک اب اگر رو پیٹ رہے ہیں تو ان کو اندازہ ہورہا ہے کہ جب سیکیورٹی چیلنج درپیش ہوں گے تو ان کا جواب بھی پھر فوجی انداز سے دیا جائے گا۔ ایسا کرنے کے لیے آئین سے درکار مدد حاصل کرلی گئی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

wenews آئینی ترمیم افغانستان پاک فوج جمہوریت سرمایہ کاری سیاست سیکیورٹی ڈومین عدلیہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاک فوج جمہوریت سرمایہ کاری سیاست سیکیورٹی ڈومین عدلیہ وی نیوز سیکیورٹی ڈومین دیا گیا ہے ترمیم کے کے ساتھ کے تحت کے لیے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن