WE News:
2026-07-24@05:21:23 GMT

تبدیل ہوتا سیکیورٹی ڈومین آئینی ترمیم کی وجہ؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

27ویں آئینی ترمیم پر اپوزیشن کوئی ’خاص ات‘ چکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے یہ وہم کرنا بنتا نہیں ہے کہ اپوزیشن کی سیاپا اور احتجاج کرنے کی صلاحیت میں کمی آ گئی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپوزیشن میں داد شجاعت دینے کو تیار بیٹھے ہوں۔ اک ٹوکن سے احتجاج کے ساتھ ترمیم سینیٹ سے پاس ہوگئی۔

حکومت کو دو ووٹ کی کمی تھی جو اپوزیشن سے فراہم ہو گئے، کسی ستم ظریف کا تبصرہ ہے کہ جنہوں نے پیسے دے کر ووٹ خریدا تھا ان پر پارٹیاں اب ووٹ بیچنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ ادھر رک کر ہم سب گول مال ہے گا سکتے ہیں۔ 27 ویں ترمیم پی ٹی آئی کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھی۔ اس پارٹی کو رگڑنے چمکانے پچکارنے کو جتنے آئینی جگاڑ درکار تھے وہ پہلے ہی حوالدار بشیر نے اپنا دماغ لڑا کر لگا لیے تھے۔ اس لیے پی ٹی آئی کا رویہ بھی کرو جو کرنا ہے، ہمیں کیا قسم کا ہی رہا۔

آرٹیکل 243 کی شق 4 اور 7 میں ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کا نام تبدیل کرکے کمانڈر آف ڈیفنس فورسزکردیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی تجویز پر ایئرچیف اور نیول چیف کی طرح کمانڈرآف ڈیفنس فورسز کا تقرر کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم ہو جائےگا۔

آئینی ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل کو آرٹیکل 248 کے تحت قانونی استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت جس افسر کو فیلڈ مارشل، ایئر مارشل یا ایڈمرل چیف کے رینک پر ترقی دے گی، اس کی مراعات اور وردی تاحیات رہیں گی۔ ان عہدوں پر ترقی پانے والوں کو قومی ہیرو تصور کیا جائے گا۔ ان کو آرٹیکل 47 کے تحت 2 تہائی اکثریت سے ہی اپنے عہدوں سے ہٹایا جا سکے گا۔

ان ترامیم کے ذریعے کمانڈر آف ڈیفنس فورس کا جو عہدہ تشکیل دیا گیا ہے، اس پر تقرری بری فوج سے ہی ہوگی یعنی آرمی چیف ہی تینوں فورسز کا کمانڈر ہوگا۔ کوآرڈینیشن، تکنیکی مسائل اور سینٹرل کمانڈ کے اسٹرکچر کو نئے تقاضوں کے مطابق آئندہ کے لیے طے کر دیا گیا ہے۔

اس آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات پر اصل روک لگائی گئی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، سپریم کورٹ کو حاصل از خود نوٹس لینے کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔ ججوں کے شوق سیاست اور اعلیٰ عدلیہ کی پارلمیانی امور میں مداخلت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے سیاستدانوں نے اپنے سارے بدلے اس ایک ترمیم کے ذریعے سیاسی ججوں اور عدالت سے لے لیے ہیں۔

آئینی ترمیم پر شریکوں کے ہاں ہونے والی بحث دلچسپ ہے۔ انڈیا اور افغانستان میں فوج کے سیاست، حکومت اور ریاست پر کنٹرول بڑھنے کا سیاپا کیا گیا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ جو کرنا ہوتا ہے اور جو نیت ارادہ ہوتا ہے وہ کبھی تحریری معاہدوں میں لکھ کر ظاہر نہیں کیا جاتا۔ معاہدوں کی تحریر (یہاں آپ آئین پڑھ لیں) وہ راستہ بتاتی ہے جس پر چل کر آئندہ فیصلے اور لائحہ عمل تشکیل پاتے ہیں۔

افغانستان کا میڈیا اگر پاکستانی آئینی ترمیم پر تبصرے کرتے ہوئے فوج کا کردار بڑھنے کی بات کر رہا ہے تو اس لطیفے پر ہنسنا بنتا ہے۔ جن کا اپنا کوئی آئین نہیں نہ جمہوریت کا ان کے جاری نظام سے کوئی واسطہ ہے، ان کو پاکستانی جمہوریت کا بخار چڑھ رہا ہے۔ چکر یہ ہے کہ جب امریکا منرل کو سیکیورٹی ڈومین میں لے آئے تو سوچنا بنتا ہے۔ پاکستان بھی منرل کو سیکیورٹی ڈومین میں ہی لائے گا۔ ہمیں انویسٹمنٹ، کنیکٹیوٹی اور انرجی کو بھی اسی ڈومین میں رکھنا ہوگا۔ سی پیک شروع کرنے کے بعد جتنے چیلنج آئے ان میں نمایاں کیا سیکیورٹی چیلنجز نہیں تھے؟۔

موجودہ قوانین اور اس عدالتی مزاج کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف لڑائی جیتی تو چھوڑیں لڑی بھی جا سکتی ہے۔ بلوچستان یا خیبر پختونخوا میں عدالتوں نے دہشتگردی کے مقدمات کے حوالے سے کیا کارکردگی دکھائی؟۔ اگر آئنی ترمیم میں اعلیٰ عدلیہ کام آگئی ہے تو اس کی وجہ خود سیاسی ججوں کی اپنی محنت اور کرامتیں ہیں۔

سرمایہ کاری منصوبوں پر جس طرح اعلیٰ عدلیہ انصاف کا ہتھوڑا چلاتی رہی ہے، اس کے بعد کون سی سرمایہ کاری ان عدالتوں اور اس مزاج کے ساتھ ہونی ممکن تھی۔ ہمارے شریک اب اگر رو پیٹ رہے ہیں تو ان کو اندازہ ہورہا ہے کہ جب سیکیورٹی چیلنج درپیش ہوں گے تو ان کا جواب بھی پھر فوجی انداز سے دیا جائے گا۔ ایسا کرنے کے لیے آئین سے درکار مدد حاصل کرلی گئی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

wenews آئینی ترمیم افغانستان پاک فوج جمہوریت سرمایہ کاری سیاست سیکیورٹی ڈومین عدلیہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاک فوج جمہوریت سرمایہ کاری سیاست سیکیورٹی ڈومین عدلیہ وی نیوز سیکیورٹی ڈومین دیا گیا ہے ترمیم کے کے ساتھ کے تحت کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار