کراچی؛ لائٹ ہاؤس لُنڈا بازار میں آگ لگ گئی، کئی پتھارے جل کر خاک
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کراچی:شہر کے کاروباری مراکز لائٹ ہاؤس میں لُنڈا بازار میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کئی پتھارے جل کر خاکستر ہو گئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے کپڑوں کے متعدد پتھاروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ لائٹ ہاؤس کے قریب لُنڈا کے پتھاروں میں لگی، جس کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں فوری طور پر موقع پر روانہ کر دی گئیں۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مطابق فائر بریگیڈ کا عملہ 2 فائر ٹینڈرز کے ساتھ ابتدائی طور پر آگ بجھانے کے عمل میں مصروف ہوا، جس کے بعد کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کے مزید 3 فائر ٹینڈرز بھی کارروائی میں شامل کیے گئے۔ مجموعی طور پر 5 فائر ٹینڈرز نے آپریشن میں حصہ لیا۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق بروقت کارروائی کے نتیجے میں آگ پر قابو پالیا گیا اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کولنگ مکمل ہونے کے بعد آگ لگنے کی وجوہات اور مالی نقصان کا تخمینہ لگایا جا سکے گا۔
ریسکیو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آتشزدگی کے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم کپڑوں کے متعدد پتھارے مکمل طور پر جل گئے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان کے مطابق آگ بجھانے کے عمل کے دوران تمام اداروں نے بھرپور تعاون کیا اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔