data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: قومی اسمبلی کل (جمعہ) تینوں مسلح افواج بری، بحری اور فضائیہ کے لیے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق اہم قانون سازی پر بحث کرے گی اور قانون کی منظوری متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بدھ کو 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد کیا گیا، اور ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے سے قبل اس قانون سازی کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ نئے ضوابط آئین کے آرٹیکل 243 میں ہونے والی حالیہ ترمیم کے مطابق ہوں گے۔

باوثوق پارلیمانی ذرائع کے مطابق، ترمیم شدہ آئین میں درج ہے کہ وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف (جو ساتھ ہی چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے) کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر کریں گے۔

مزید یہ کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم کر دیا جائے گا۔ ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز، چیف آف ایئر اسٹاف اور چیف آف نیول اسٹاف کی تعیناتیاں وزیراعظم کی سفارش پر ہوں گی۔

ترمیم کے مطابق، جن افسران کو فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے پر ترقی دی جائے گی، وہ اپنی وردی، مراعات اور درجہ تاحیات برقرار رکھیں گے، اور ان کی آئندہ ذمہ داریاں وفاقی حکومت طے کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ آئین کے تحت ان اعلیٰ فوجی عہدوں کو آئینی تحفظ حاصل ہوگا، اور انہیں صرف آرٹیکل 47 کے مطابق ہٹایا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ آرٹیکل 248 کے تحت صدرِ مملکت کو حاصل استثنا اب ان افسران تک بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ترمیم کے بعد پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے نئے فوجی ضوابط نافذ کیے جائیں گے تاکہ تینوں افواج کے نظام کو آئینی تقاضوں کے مطابق عملی شکل دی جا سکے۔

اسی دوران ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی شاندار خدمات کے اعتراف میں انہیں مزید پانچ سال کے لیے دوبارہ تعینات کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کی نئی مدتِ تقرری مارچ 2026 سے شروع ہوگی۔

ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو نے 19 مارچ 2021 کو کمان سنبھالی تھی اور مارچ 2024 میں انہیں ایک سال کی توسیع دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ جنگ میں قیادت کے اعتراف میں انہیں مارشل آف دی ایئر فورس (MAF) کا اعزازی درجہ دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، اور وہ اس اعزاز کے حامل پہلے چیف آف ایئر اسٹاف ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان آرمی میں بھی جلد دو مزید فور اسٹار جنرلز کی تعیناتیاں ہوں گی — ایک کو وائس چیف آف آرمی اسٹاف (VCAS) اور دوسرے کو کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ مقرر کیا جائے گا۔ دونوں عہدے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ماتحت ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق ترمیم کے ہوں گے چیف آف

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری

کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔

بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس

کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔

سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ

سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:

گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے

معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔

اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔

دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن