City 42:
2026-07-24@02:14:39 GMT

نادرا میں ملازمت کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

ویب ڈیسک:نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے مختلف پوزیشنز کیلیے ملازمتوں کا اعلان کر دیا، درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 20 نومبر ہے۔

 نادرا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر (سیمنٹک لیڈ) کے عہدے کیلیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ اگر آپ ڈیٹا انٹیلی جنس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے بارے میں پُرجوش ہیں تو یہ آپ کیلیے بہترین موقع ہے،پوزیشن کے بارے میں مزید جاننے اور درخواست دینے کیلیے لنک پر کلک کریں: https://lnkd.

in/dj5KmzJJ

افغان کرکٹر راشد خان کی دوسری اہلیہ کون؟ تصاویر سامنے آگئیں

 نادرا نے ڈپٹی ڈائریکٹر (سیمنٹک بزنس انٹیلی جنس ڈویلپر) کے عہدے کیلیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ یہ عہدہ پیچیدہ ڈیٹا کو قابل عمل بنانے کیلیے اعلیٰ درجے کی BI اور حل تیار کرنے پر مرکوز ہے،آپ اینالیٹکس، اے آئی اور سیمنٹک ماڈلنگ میں جدید ٹیکنالوجیز کا فائدہ اٹھا کر ڈیٹا پر مبنی ایکو سسٹم بنانے کے مشن میں شامل ہو سکتے ہیں،پوزیشن کیلیے اپلائی کرنے کیلیے اس لنک پر کلک کریں: https://lnkd.in/dUf8sQ72

کراچی :ٹریفک نظام میں روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ

 نادرا ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیٹا انجینئر لیڈ کے عہدے کیلیے درخواستیں طلب کر رہا ہے۔ یہ عہدہ بڑے پیمانے پر ڈیٹا پائپ لائنز اور آرکیٹیکچرز کو ڈیزائن کرنے اور ان کا انتظام کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اگر آپ کو ڈیٹا انجینئرنگ اور ڈیٹا ٹیکنالوجیز کا جنون ہے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں،درخواست دینے کیلیے لنک پر کلک کریں: https://lnkd.in/dK_JHg9H

 نادرا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیرا ڈیٹا ڈی بی اے کے عہدے کیلیے بھی درخواستیں طلب کر رہا ہے۔ یہ پوزیشن اتھارٹی کے ٹیراڈیٹا ڈیٹا بیس سسٹمز کے نظم و نسق، اس بہتر بنانے اور قابل اعتمادی و کارکردگی کو یقینی بنانے کیلیے ہے،اگر آپ کو ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریشن، پرفارمنس ٹیوننگ اور انٹرپرائز ڈیٹا مینجمنٹ میں مہارت حاصل ہے تو پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں اپنا حصہ ڈالیں،اپلائی کرنے کیلیے دیے گئے لنک پر کلک کریں: https://lnkd.in/d63iuC89

وفاقی عدالتوں کے ملازمین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

  واضح رہے کہ مذکورہ ملازمتوں کے مواقع نادرا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہیں جن کیلیے درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2025 ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: لنک پر کلک کریں درخواستیں طلب کیلیے درخواست کے عہدے کیلیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی