Islam Times:
2026-06-03@02:25:28 GMT

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

سید الطاف بخاری نے اپنی تقریر میں روایتی سیاسی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بی جے پی کو جموں و کشمیر کے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر "اپنی پارٹی" کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے ضلع بڈگام میں پارٹی کارکنان کے ایک بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے ضمنی انتخابات میں "اپنی پارٹی" کے امیدوار مختار احمد ڈار کے حق میں ووٹ دیں۔ اس موقع پر کئی سرکردہ پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ سید الطاف بخاری نے اپنی تقریر میں روایتی سیاسی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بی جے پی کو جموں و کشمیر کے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان جماعتوں کے جذباتی نعروں اور کھوکھلے وعدوں کے جال میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسے امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جو اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہے۔ یہ انتخابات حکومت بنانے کے لئے نہیں، بلکہ عوام کی آواز بلند کرنے کے لئے ہیں، اگر آپ اس امیدوار کو کامیاب بناتے ہیں تو وہ آپ کے مسائل کو برسرِ اقتدار حکومت تک پہنچائے گا۔

اپنی تقریر کے دوران سید الطاف بخاری نے پچھلے سال کے اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ان انتخابات کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جموں کے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ ایک ہندو وزیراعلیٰ کو لائیں گے، جس کے ردعمل میں وادی کشمیر کے لوگوں نے ایک ہی جماعت کے پیچھے مذہبی بنیاد پر صف بندی کی۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جمہوری عمل کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگ دیا گیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے واقعات کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن ہم سے ہمارے آئینی حقوق چھین لئے گئے اور وہ دن ہماری تاریخ میں ہمیشہ ایک افسوسناک دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

اپنی پارٹی کے قیام کے حوالے سے سید الطاف بخاری نے کہا کہ 5 اگست کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، لوگ خوفزدہ تھے کہ کہیں آبادی کا تناسب تبدیل نہ کیا جائے، ایسے وقت میں اپنی پارٹی نے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لئے عملی جدوجہد شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مرکز کے ساتھ بات چیت کر کے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے زمین اور روزگار کے خصوصی حقوق برقرار رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے تین ہزار سے زائد نظربندوں کی رہائی بھی یقینی بنائی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر سید الطاف بخاری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ضمنی انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال کر اس جدوجہد کو مضبوط کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اپنی پارٹی عوامی خدمت اور خطے کے وقار کی بحالی کے لئے پوری دیانتداری کے ساتھ سرگرم عمل رہے گی۔ اس موقع پر بڈگام کے معروف سیاسی کارکن غلام نبی پروانہ اپنے ساتھیوں سمیت اپنی پارٹی میں شامل ہوئے، جن کا پارٹی صدر اور دیگر رہنماؤں نے پُرجوش خیرمقدم کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا ورکرس کنونشن منعقد سید الطاف بخاری نے بڈگام کشمیر میں ہوئے کہا کہ اپنی پارٹی اپنی تقریر کرتے ہوئے نے کہا کہ کشمیر کے انہوں نے بی جے پی عوام سے کے لئے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی