Islam Times:
2026-07-24@05:22:50 GMT

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

سید الطاف بخاری نے اپنی تقریر میں روایتی سیاسی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بی جے پی کو جموں و کشمیر کے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد

اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر "اپنی پارٹی" کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے ضلع بڈگام میں پارٹی کارکنان کے ایک بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے ضمنی انتخابات میں "اپنی پارٹی" کے امیدوار مختار احمد ڈار کے حق میں ووٹ دیں۔ اس موقع پر کئی سرکردہ پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ سید الطاف بخاری نے اپنی تقریر میں روایتی سیاسی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بی جے پی کو جموں و کشمیر کے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان جماعتوں کے جذباتی نعروں اور کھوکھلے وعدوں کے جال میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسے امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جو اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہے۔ یہ انتخابات حکومت بنانے کے لئے نہیں، بلکہ عوام کی آواز بلند کرنے کے لئے ہیں، اگر آپ اس امیدوار کو کامیاب بناتے ہیں تو وہ آپ کے مسائل کو برسرِ اقتدار حکومت تک پہنچائے گا۔

اپنی تقریر کے دوران سید الطاف بخاری نے پچھلے سال کے اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ان انتخابات کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جموں کے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ ایک ہندو وزیراعلیٰ کو لائیں گے، جس کے ردعمل میں وادی کشمیر کے لوگوں نے ایک ہی جماعت کے پیچھے مذہبی بنیاد پر صف بندی کی۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جمہوری عمل کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگ دیا گیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے واقعات کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن ہم سے ہمارے آئینی حقوق چھین لئے گئے اور وہ دن ہماری تاریخ میں ہمیشہ ایک افسوسناک دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

اپنی پارٹی کے قیام کے حوالے سے سید الطاف بخاری نے کہا کہ 5 اگست کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، لوگ خوفزدہ تھے کہ کہیں آبادی کا تناسب تبدیل نہ کیا جائے، ایسے وقت میں اپنی پارٹی نے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لئے عملی جدوجہد شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مرکز کے ساتھ بات چیت کر کے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے زمین اور روزگار کے خصوصی حقوق برقرار رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے تین ہزار سے زائد نظربندوں کی رہائی بھی یقینی بنائی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر سید الطاف بخاری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ضمنی انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال کر اس جدوجہد کو مضبوط کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اپنی پارٹی عوامی خدمت اور خطے کے وقار کی بحالی کے لئے پوری دیانتداری کے ساتھ سرگرم عمل رہے گی۔ اس موقع پر بڈگام کے معروف سیاسی کارکن غلام نبی پروانہ اپنے ساتھیوں سمیت اپنی پارٹی میں شامل ہوئے، جن کا پارٹی صدر اور دیگر رہنماؤں نے پُرجوش خیرمقدم کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا ورکرس کنونشن منعقد سید الطاف بخاری نے بڈگام کشمیر میں ہوئے کہا کہ اپنی پارٹی اپنی تقریر کرتے ہوئے نے کہا کہ کشمیر کے انہوں نے بی جے پی عوام سے کے لئے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام