بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
سید الطاف بخاری نے اپنی تقریر میں روایتی سیاسی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بی جے پی کو جموں و کشمیر کے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
بڈگام کشمیر میں "اپنی پارٹی" کا ورکرس کنونشن منعقد
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر "اپنی پارٹی" کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے ضلع بڈگام میں پارٹی کارکنان کے ایک بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے ضمنی انتخابات میں "اپنی پارٹی" کے امیدوار مختار احمد ڈار کے حق میں ووٹ دیں۔ اس موقع پر کئی سرکردہ پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ سید الطاف بخاری نے اپنی تقریر میں روایتی سیاسی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر بی جے پی کو جموں و کشمیر کے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان جماعتوں کے جذباتی نعروں اور کھوکھلے وعدوں کے جال میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسے امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جو اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہے۔ یہ انتخابات حکومت بنانے کے لئے نہیں، بلکہ عوام کی آواز بلند کرنے کے لئے ہیں، اگر آپ اس امیدوار کو کامیاب بناتے ہیں تو وہ آپ کے مسائل کو برسرِ اقتدار حکومت تک پہنچائے گا۔اپنی تقریر کے دوران سید الطاف بخاری نے پچھلے سال کے اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ان انتخابات کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے جموں کے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ ایک ہندو وزیراعلیٰ کو لائیں گے، جس کے ردعمل میں وادی کشمیر کے لوگوں نے ایک ہی جماعت کے پیچھے مذہبی بنیاد پر صف بندی کی۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جمہوری عمل کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگ دیا گیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے واقعات کو جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن ہم سے ہمارے آئینی حقوق چھین لئے گئے اور وہ دن ہماری تاریخ میں ہمیشہ ایک افسوسناک دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
اپنی پارٹی کے قیام کے حوالے سے سید الطاف بخاری نے کہا کہ 5 اگست کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، لوگ خوفزدہ تھے کہ کہیں آبادی کا تناسب تبدیل نہ کیا جائے، ایسے وقت میں اپنی پارٹی نے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لئے عملی جدوجہد شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مرکز کے ساتھ بات چیت کر کے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ جموں و کشمیر کے عوام کے لئے زمین اور روزگار کے خصوصی حقوق برقرار رہیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے تین ہزار سے زائد نظربندوں کی رہائی بھی یقینی بنائی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر سید الطاف بخاری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ضمنی انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال کر اس جدوجہد کو مضبوط کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اپنی پارٹی عوامی خدمت اور خطے کے وقار کی بحالی کے لئے پوری دیانتداری کے ساتھ سرگرم عمل رہے گی۔ اس موقع پر بڈگام کے معروف سیاسی کارکن غلام نبی پروانہ اپنے ساتھیوں سمیت اپنی پارٹی میں شامل ہوئے، جن کا پارٹی صدر اور دیگر رہنماؤں نے پُرجوش خیرمقدم کیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا ورکرس کنونشن منعقد سید الطاف بخاری نے بڈگام کشمیر میں ہوئے کہا کہ اپنی پارٹی اپنی تقریر کرتے ہوئے نے کہا کہ کشمیر کے انہوں نے بی جے پی عوام سے کے لئے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔