کیش لیس معیشت سے گورننس میں بہتری اور کرپشن میں کمی آئے گی: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کیش لیس معیشت کے ذریعے گورننس کی بہتری اور کرپشن میں خاطر خواہ کمی آئے گی، کیش لیس معیشت کے وضح کردہ اہداف کا معینہ مدت میں حصول یقینی بنایا جائے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس معیشت کے اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا، شرکاء کو وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے ویژن کے تحت حکومتی اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کو کیش لیس کرنے کیلئے جاری اقدامات کا ملکی معیشت کی پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ہوگا، مکمل طور پر کیش لیس معیشت اور غیر رسمی معیشت کے خاتمے کیلئے دیہی علاقوں میں آگاہی بڑھائی جائے۔
مریم نواز شریف کی ہدایت پر چیف منسٹر شکایات سیل کا فوری ایکشن، خیبر پختونخوا کے شہری کے 86 لاکھ روپے 48 گھنٹے میں واپس مل گئے
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے گامزن ہے، پاکستان کو دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ روز اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کیلئے اقدامات کو ترجیح دی جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، رمضان المبارک میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مستحقین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے بھیجی گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کیش لیس معیشت کے ذریعے گورننس کی بہتری اور کرپشن میں خاطر خواہ کمی آئے گی، کیش لیس معیشت کے وضح کردہ اہداف کا معینہ مدت میں حصول یقینی بنایا جائے۔
اگر کوئی بہت مشکل سوال ہے تو ہم وفاقی آئینی عدالت بھجوا دیتے ہیں: جسٹس منصور علی شاہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی اور گیس کے بلز پر راست ’کیو آڑ‘ کوڈز کے ذریعے ان کی ادائیگی کو کیش لیس کیا جا رہا ہے جس کی بدولت اربوں روپے کے بلوں کی ادائیگی اب ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔
وزیر اعظم کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک کروڑ ڈیجیٹل والٹس پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ والٹس رواں ماہ کے اختتام تک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے اور مستحقین کو رقوم کی آئندہ قسط اسی کے ذریعے بھیجی جائے گی، اسلام آباد میں سرکاری سروسز کے حصول کیلئے قائم موبائل ایپلی کیشن کو راست کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور ادائیگیاں اسی کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچ گئے
شرکا کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں نئے کاروبار کھولنے کے لیے لائسنس کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے اور موجودہ تمام دکانوں پر راست ’کیو آر‘ کوڈز کے ذریعے ادائیگیوں کی سہولت فراہم کردی گئی ہے جب کہ ملک میں ڈیجیٹل بینکس کے قیام کیلئے لائسنس جاری کئے جارہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کیش لیس معیشت کے شہباز شریف کے ذریعے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ