اسلام آباد، بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس، 40 ممالک کے رہنما شریک ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد(اصغر چوہدری)مشیر چیئرمین سینیٹ میاں خرم رسول نے کہا ہے کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے انتظامات مکمل، دنیا کے 40 سے زائد ممالک کے پارلیمانی رہنما شرکت کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ اور بانی چیئرمین انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس (ISC) سید یوسف رضا گیلانی کے وڑن اور رہنمائی کے مطابق کانفرنس کے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، چیئرمین سینیٹ خود روزانہ کی بنیاد پر کانفرنس سے متعلق تیاریوں اور انتظامی امور کا جائزہ لے رہے ہیں،انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس پاکستان کے لیے ایک تاریخی اور سفارتی سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے،جس میں دنیا کے 40 سے زائد ممالک کے اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز اور پارلیمانی نمائندگان کی شرکت کرینگے، کانفرنس امن، ترقی اور عالمی ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پر اسلام آباد میں 11 تا 12 نومبر 2025 کو منعقد ہو رہی ہے،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کو اپریل 2025 میں سیول، جنوبی کوریا میں ہونے والے اجلاس کے دوران انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس (ISC) کا بانی چیئرمین متفقہ طور پر منتخب کیا گیا تھا، دنیا بھر کے پارلیمانی رہنماو¿ں نے متفقہ طور پر گیلانی کو اس منصب کے لیے منتخب کیا،یہ انتخاب عالمی پارلیمانی برادری کے پاکستان پر اعتماد اور احترام کا مظہر ہے،مشیر چیئرمین سینیٹ برائے میڈیا نے کہا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سیشنز میں پارلیمانی سفارت کاری سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا،مزید برآں، اجلاس میں ماحولیاتی اقدامات، پائیدار ترقی اور وسائل کی مساوی تقسیم سے متعلق عملی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں گی، باہمی تعاون کے نئے فریم ورکز پر بھی مشاورت کی جائے گی، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا ویڑن ایک پرامن، باہمی جڑے ہوئے اور ترقی یافتہ عالمی معاشرے کی تشکیل پر مبنی ہے، پارلیمانوں کا کردار محض قانون سازی تک محدود نہیں بلکہ امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں فعال شراکت داری پر مشتمل ہے، اسلام آباد میں ہونے والی یہ عالمی کانفرنس پاکستان کے پارلیمانی تشخص، بین الاقوامی وقار، اور سفارتی کردار کو مزید اجاگر کرے گی۔۔۔۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپیکرز کانفرنس چیئرمین سینیٹ اسلام ا باد
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔