اسلام آباد:

سینیٹ کا اجلاس آج طلب کیا گیا ہے جس میں 27ویں آئینی ترمیم ایجنڈے میں شامل نہیں تاہم آئینی ترمیم کا مسودہ ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس کا 13 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا ہے جس میں 27ویں آئینی ترمیم ایجنڈے میں شامل نہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کا ایجنڈا پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور 27 ویں آئینی ترمیم کو ضمنی ایجنڈے کے طور پر پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

اسی طرح سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی اجلاس کا ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا، 27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی ایجنڈے میں بھی شامل نہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کا 14نکاتی ایجنڈا جاری کیا۔

دریں اثنا وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور کے لیے کابینہ کا اجلاس آج صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا تھا، تاہم اسے پیپلز پارٹی کے سی ای ای اجلاس کے آج جاری رہنے کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے تیار کردہ ترمیمی بل پیش کیے جانے کا امکان تھا، جس کی منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239 کے مطابق، کسی بھی آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سخت آئینی طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔

سینیٹ میں مسودہ پر بحث کے بعد متعلقہ قائمہ کمیٹی میں بل بھجوایا جائے گا جہاں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں ترمیم کی منظوری لی جائے گی۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پیش کیے جانے کا امکان 27ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی کے مطابق گیا ہے کے بعد

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن