data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:۔ وفاقی حکومت نے 27ویں ترمیم کا مسودہ کابینہ سے منظور کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، کابینہ اجلاس جمعہ کی صبح 9بجکر 45منٹ پر ہوگا۔

کابینہ اجلاس کمیٹی روم نمبر 2 پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں ہوگا۔ وزیر قانون کی جانب سے شرکا کو مسودے پر بریفنگ دی جائے گی، اتحادیوں کے مطالبات بھی کابینہ کے سامنے رکھے جائیں گے۔

وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد 27ویں ترمیم جمعہ کو ہی سینیٹ میں پیش کی جائے گی، جس پر غور کے لیے سینیٹ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کی منظوری دے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی صدارت فاروق ایچ نائیک کریں گے، کمیٹی کو ترمیم پر غور کے لیے دو دن کا وقت دیا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس ہفتہ اور اتوار کو بھی ہوں گے۔ پیر کو سینیٹ میں پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوگی جس کے بعد سینیٹ پیر یا منگل کو آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔

ذرائع کے مطابق اسی روز ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کردی جائے گی، قومی اسمبلی بحث کے بعد بدھ یا جمعرات تک ترمیم منظور کرلے گی۔

دوسری جانب ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے تناظر میں وزیراعظم اور پیپلز پارٹی رہنماﺅں کی ملاقات ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، پیپلز پارٹی وفد نے اپنی تجاویز وزیراعظم کے سامنے رکھیں۔ ملاقات میں مجوزہ ترمیم کی شقوں اور موقف پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

حکومت کو جے یو آئی کے بغیر ہی سینیٹ میں 65 ارکان کی حمایت ملنے کا یقین ہے۔ 96کے ایوان میں پیپلزپارٹی کے 26، (ن) لیگ کے 20، بی اے پی کے 4، ایم کیوایم اور اے این پی کے 3،3 سینیٹرز موجود ہیں۔ اے این پی اور 7آزاد سینیٹرز بھی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے ۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن