وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل منظور ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل منظور ہونے کا امکان ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا۔جیو نیوز کے مطابق اجلاس میں کابینہ کو 27ویں ترمیم پر بریفنگ دی جائے گی، کل ہی ترمیم سینیٹ اجلاس میں بھی پیش کردی جائے گی۔آج وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا، متحدہ قومی موومنٹ کے وفد سے ملاقات میں ایم کیو ایم کے بلدیاتی مسودے کو 27ویں ترمیم میں شامل کرنے کا یقین دلایا۔
متحدہ نے بھی ترمیم کی حمایت کر دی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں مدد کا وعدہ بھی کرلیا۔ایم کیو ایم نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ انتخابات کے بعد بننے والی مقامی حکومت کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیئے جائیں، مقامی حکومتوں کی مدت چار سال ہو اور نئے انتخابات نگراں سیٹ اپ کے تحت کرائے جائيں۔وزیراعظم سے استحکام پاکستان پارٹی، ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وفود نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔