ابتدائی مسودہ تیار، 27ویں آئینی ترمیم کل سینیٹ میں پیش کی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
وفاقی حکومت نے ستائیسویں آئینی ترمیم کو باضابطہ طور پر سینیٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کل سینیٹ کے اجلاس میں ترمیم کا مسودہ پیش کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ترمیمی مسودہ پیش کیے جانے کے بعد اسے مزید غور و خوض کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کیا جائے گا۔ کمیٹی ہفتہ اور اتوار کو خصوصی اجلاس منعقد کرے گی تاکہ مسودے کی شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ذرائع نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی اپنی رپورٹ پیر کے روز سینیٹ میں پیش کرے گی۔ رپورٹ کی منظوری کے بعد ترمیمی مسودہ قومی اسمبلی میں متعارف کرایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کا حتمی مرحلہ 14 نومبر کو قومی اسمبلی میں متوقع ہے۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ترمیم کے عمل کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا چاہتی ہے، اس لیے ہفتہ اور اتوار کو بھی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کل سینیٹ میں ترمیمی مسودہ پیش کرتے وقت اس کے اہم نکات پر ایوان کو بریف کریں گے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ ترمیمی عمل مقررہ وقت کے اندر مکمل ہو جائے تاکہ اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کرایا جا سکے۔دوسری جانب اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آج اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتوں کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم پر اعتماد میں لیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق انہی ملاقاتوں کے باعث آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ملتوی کر دیے گئے ہیں۔وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی، ق لیگ اور باپ پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی مشاورت ہوگی، جبکہ سب سے اہم ایجنڈا ستائیسویں آئینی ترمیم پر اتحادیوں کا اتفاق رائے حاصل کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے ترمیم کی منظوری کے لیے ابتدائی روڈ میپ تیار کر لیا ہے۔ جمعے کو یہ ترمیم سینیٹ میں پیش کی جائے گی جبکہ 14 نومبر کو قومی اسمبلی سے منظوری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے میں وزیراعظم نے تمام وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے غیر ملکی دورے منسوخ کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ سب اسلام آباد میں موجود رہیں تاکہ پارلیمانی کارروائی میں بھرپور شرکت یقینی بنائی جا سکے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے دو سے تین دن میں متوقع ہے، جس کے بعد قانون سازی آئندہ ہفتے شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دفاعی افواج سے متعلق قوانین میں ترامیم پر غور کر رہی ہے، کیونکہ ”دفاعی ضروریات بدل گئی ہیں“۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم پر بات ہو رہی ہے، جو مسلح افواج کی کمان کے اختیارات سے متعلق ہے۔حکومت نے قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ اس کے برعکس، حکومت کا مقصد آئین کو جدید دفاعی، عدالتی اور انتظامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ ترامیم میں ایگزیکٹو مجسٹریسی کی بحالی، این ایف سی ایوارڈ میں ردوبدل، لوکل باڈیز انتخابات، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے نئے طریقہ کار، نگران حکومتوں کی آئینی مدت اور آئینی عدالت کے قیام جیسے نکات شامل ہیں۔حکومت نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مجوزہ ترمیم کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں 8 نومبر کو ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا، جس میں اتحادی جماعتوں کے تمام رہنما شریک ہوں گے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے وفد نے وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی، جس میں پی پی وفد نے مجوزہ 27 ویں ترمیم کی شقوں پر تفصیلی مشاورت کی اور پارٹی کا مؤقف پیش کیا۔ ۔۔ پی پی وفد وزیراعظم کے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی جائے گا اور سی ای سی اجلاس کو بریفنگ دے گا۔
یاد رہے کہ پیپلزپارٹی نے آج کراچی میں اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے، جس کی صدارت بلاول بھٹو زرداری کریں گے۔ اجلاس میں حکومتی ڈرافٹ پر تفصیلی غور اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔اس کے برعکس تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی کوئی حتمی رائے دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ستائیسویں آئینی ترمیم ذرائع کے مطابق سینیٹ میں پیش قومی اسمبلی پارلیمنٹ کے کی منظوری حکومت نے ترمیم کی جائے گا کریں گے پیش کی جا سکے کے بعد
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔