برطانیہ اور قطر کے درمیان نئے دفاعی معاہدے پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دوحا (ویب ڈیسک) برطانیہ اور قطر کے درمیان دوحا میں ایک نیا دفاعی معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے دورہ قطر کے دوران امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان نئے ڈیفنس ایشورنس ارینجمنٹ پر دستخط کیے، یہ معاہدہ برطانیہ اور قطر کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا اور بری، فضائی و بحری افواج کے درمیان تعاون اور رابطے کے فروغ کی راہ ہموار کرے گا۔ دونوں ممالک نے مستقبل کے خطرات سے بہتر طور پر نمٹنے کیلیے مشترکہ منصوبہ بندی اور دفاعی حکمت عملی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، یہ معاہدہ قطر کے دفاع میں برطانیہ کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کے درمیان قطر کے
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔