دہشت گردوں کی سرپرستی کاخاتمہ ناگزیر
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
افغانستان اور پاکستان نے استنبول میں 6 نومبر سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اس موقع تک جنگ بندی قائم رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کے بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ،کچھی اورکیچ میں ٹارگٹڈ آپریشنز، شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے تین اہم کمانڈرز سمیت 24 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جب کہ خیبر پختو نخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک گروہ کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر امجد عرف مزاحم سمیت چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا۔
استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک ایسی پیش رفت ہیں جنھیں صرف سفارتی کوشش نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والا لمحہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ دونوں ممالک نے چھ نومبر سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور اس موقع تک جنگ بندی قائم رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جو بلاشبہ ایک مثبت اشارہ ہے، اگرچہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ مذاکرات دیرپا امن کی ضمانت بن جائیں گے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بات چیت کا جاری رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے ابتدائی طور پر امید کی تھی کہ کابل نئی حکومت کے ساتھ تعاون کے جذبے سے تعلقات کو بہتر بنائے گا، لیکن وقت کے ساتھ یہ توقعات کمزور پڑتی گئیں۔ تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں میں تیزی، سرحد پار حملوں اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر بڑھتے ہوئے حملوں نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر TTP کو پناہ دے رہا ہے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہا۔ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور خود کو ایک خود مختار ملک کے طور پر پیش کرتا ہے جو کسی دوسرے ملک کے دباؤ میں نہیں آنا چاہتا، لیکن زمینی حقائق کچھ اورکہانی سناتے ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد جس طرح شواہد سامنے آئے ہیں، وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے اور سہولت کار اب بھی افغان سرزمین پر موجود ہیں، یہی وہ نکتہ ہے جس پر پاکستان کا صبر اب لبریز ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ایک جانب باضابطہ بیانات، مذاکرات اور امن کی باتیں سامنے آتی ہیں، تو دوسری جانب ایسے واقعات جن میں سرحد پار سے دراندازی، ٹارگٹڈ کارروائیوں یا دہشت گردوں کی موجودگی کا شبہ ہوتا ہے، امن کے بیانیے کو چیلنج بناتے ہیں، اگر افغانستان، تحریک طالبان یا دیگر دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کا اعتراف ایک اخلاقی اور عملی ضرورت بن جاتا ہے، نہ صرف پاکستان کے لیے، بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے بھی۔
اگر کابل حکومت کی طرف سے واضح اور موثرکوششیں موجود ہیں تو اس کا ثبوت طلب کرنا درست ہے اور اگر وہ نااہل یا ناتواں ہے تو اس کا اعتراف کرنا ہوگا۔ افغانستان واقعی دہشت گرد عناصرکو پناہ دے رہا ہے یا ان کی سرپرستی کر رہا ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔
امن کے دعوے اور دہشت گردی کی سرپرستی ایک ہی وقت میں ممکن نہیں، نہایت ضروری ہے کہ اگر افغانستان حکومت واقعی میں اس قابل نہیں کہ وہ دیگرگروہوں کو کنٹرول کرے، تو وہ اس حقیقت کا باوقار اور شفاف اعتراف کرے، یہ اعتراف کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ مسئلے کے حل کا پہلا قدم ہوگا۔
اس پس منظر میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا حالیہ بیان خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے واضح انداز میں کہا کہ پاکستان تمام ہمسایوں کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، مگر افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری قیادت نے اب فیصلہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حساس علاقوں کو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں سے پاک کیا جائے گا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالیہ آپریشنز اس عزم کی واضح مثال ہیں۔
کوئٹہ، کیچ اور کچھی کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے ٹارگٹڈ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی تنظیم ’’ فتنہ الہندوستان‘‘ کے اہم کمانڈرز سمیت درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ اسی طرح باجوڑ کے مقام پر پاک افغان سرحد کے قریب ایک دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا کر چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جن میں انتہائی مطلوب کمانڈر امجد عرف مزاحم بھی شامل تھا۔ یہ کارروائیاں نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے بڑا دھچکہ ہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ پاکستان اپنی سلامتی پرکسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
افغانستان کے لیے بھی یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر اب بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ معاشی پابندیاں، بیرونی فنڈزکی بندش اور داخلی بدامنی نے کابل انتظامیہ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے اپنے ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان، جو کبھی طالبان حکومت کا سب سے بڑا حامی سمجھا جاتا تھا، اب اسی حکومت سے نالاں دکھائی دیتا ہے۔
طالبان قیادت کے لیے یہ احساس ضروری ہے کہ پاکستان کے ساتھ دشمنی ان کے اپنے مفاد میں نہیں، اگر افغانستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے لیے اقتصادی مواقع، علاقائی تجارت اور بین الاقوامی قبولیت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
استنبول مذاکرات کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں خطے کے دیگر ممالک کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ چین، جو سی پیک کے ذریعے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے، یہ چاہتا ہے کہ افغانستان بھی اس منصوبے کا حصہ بنے۔ بیجنگ جانتا ہے کہ اگر افغانستان میں استحکام آتا ہے تو وسطی ایشیا، چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستے کھل سکتے ہیں، جو تمام فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ اسی طرح ایران بھی ایک مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے،کیونکہ بد امنی کے اثرات اس کی سرحدوں تک پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام عوامل نے مل کر استنبول مذاکرات کو عالمی اہمیت دے دی ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ پیش رفت محض دو ممالک کے درمیان سفارتی رابطہ نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی وژن کا حصہ ہے، اگر افغانستان سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھاتا ہے تو یہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے امن و استحکام کا نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔
دہشت گرد نیٹ ورکس، اسمگلنگ مافیا اور وہ قوتیں جو خطے میں دشمنی کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں، ہر ممکن کوشش کریں گی کہ یہ عمل ناکام ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں طالبان قیادت کی بصیرت کا امتحان ہے،انھیں امن دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے ۔افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے وعدوں پر عملدرآمد ہے، اگر وہ واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے نہ صرف TTP کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے بلکہ پاکستان کے خدشات کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ طالبان پاکستان کے خدشات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
عوامی سطح پر بھی اس امن عمل کو مقبول بنانا ضروری ہے۔ دونوں ممالک کے عوام جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے قبائلی علاقے ہیں جو برسوں سے بد امنی کی چکی میں پِس رہے ہیں، دوسری جانب افغانستان کے شہری ہیں جنھوں نے چار دہائیوں سے مسلسل جنگ اور تباہی کا سامنا کیا ہے، خطے کی ترقی کے لیے امن کا قیام ناگزیر ہے۔ استنبول مذاکرات کے موقع پر یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اب وہ وقت آ گیا ہے جب طالبان اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایک نئے باب کا آغازکریں۔یہ بھی درست ہے کہ امن کا سفر طویل اور دشوار ہے، مگر اس سفرکا پہلا قدم بات چیت ہے اور یہی قدم استنبول میں اٹھایا گیا ہے۔
اب یہ طالبان کی سیاسی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو کس طرح استعمال کرتے ہیں، اگر ماضی کی طرح محض وقتی فائدے کے لیے یہ عمل دوبارہ تعطل کا شکار ہوا تو پورا خطہ اس کے منفی اثرات بھگتے گا۔ دہشت گردی، انتہا پسندی، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کا حل اسی میں ہے کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔آرمی چیف کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ’’امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں‘‘ آج دنیا میں ترقی وہی ملک کر رہے ہیں جنھوں نے اپنے داخلی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا۔ افغانستان بھی اگر اسی راستے پر چلے تو وہ دن دور نہیں جب خطہ امن، استحکام اور خوشحالی کی مثال بن سکتا ہے۔
استنبول مذاکرات اس سفر کا نقطہ آغاز ہیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ استنبول میں ہونے والے یہ مذاکرات محض الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ امید کی ایک شمع ہیں، اگر اس شمع کو بجھنے نہ دیا گیا تو ممکن ہے کہ برسوں کی تاریکی کے بعد روشنی کا سفر شروع ہو جائے، لیکن اگر یہ موقع بھی ضایع ہوا، تو تاریخ ایک بار پھر افغانستان کو اس خطے کی بد امنی کا ذمے دار ٹھہرائے گی۔ اب فیصلہ افغان طالبان کی عبوری حکومت کے ہاتھ میں ہے، جن کے اقدامات آیندہ نسلوں کی تقدیر لکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: استنبول مذاکرات اگر افغانستان افغانستان کے طالبان حکومت استنبول میں پاکستان کے کہ پاکستان نہیں بلکہ کے درمیان حکومت کے ہیں بلکہ کے ساتھ سکتا ہے ہے اور کیا ہے رہا ہے خطے کی کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔