27ویں آئینی ترمیم کا فریم ورک تیار،منظوری کے لئے جلدپارلیمنٹ میں پیش کرنے کافیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے فریم ورک تیار کرلیا گیا،پہلے سینیٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
میڈیا ذرائع نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم جمعہ کے روز سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، سینیٹ سے منظوری کے بعد آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ وزارت قانون اور وزارت پارلیمانی امور نے سینیٹ سیکریٹریٹ کو آگاہ کر دیا ہے اور آئینی ترمیم آئندہ ہفتے دونوں ایوانوں سے منظور کروائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اراکین شامل ہوں گے، تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین اور مرکزی قیادت کی نمائندگی ہوگی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کا مجوزہ ڈرافٹ پارلیمانی کمیٹی میں پیش کیا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم منظوری کے میں پیش
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔