ایک سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت)ایک سال کے دوران حکومتی قرضوں میں 10 ہزار ارب کا اضافہ ہوا ہے جس کے سبب مجموعی قرض 84 ہزار ارب سے زاید ہوگیا۔حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے فریم ورک کے تحت پاکستان کے ذمے قرضوں سے متعلق وزارت خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 3 سال میں پاکستان کے ذمے قرضوں کا تناسب 70.
60.8 فیصد پر آنے کا تخمینہ ہے، مالی سال 2026ء سے 2028ء کی درمیانی مدت میں قرض پائیدار رہنے کی توقع ہے۔وزارت خزانہ حکام کے مطابق رپورٹ میں معاشی سست روی کو قرضوں کی پائیداری کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے، ایکسچینج ریٹ اور سود کی شرح میں تبدیلی قرض کا بوجھ بڑھا سکتی ہے، بیرونی جھٹکے اور موسمیاتی تبدیلی قرض کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں، فلوٹنگ ریٹ قرض کی بڑی مقدار سے شرح سود کا خطرہ بلند رہے گا، پاکستان کے ذمے مجموعی قرضوں کا 67.7 فیصد ملکی قرض ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری
فوٹو: فائلوزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔
دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔
دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔