data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ شادی کسی بیٹی کو اپنے والدین کے سرکاری کوٹے کے تحت نوکری کے حق سے محروم نہیں کر سکتی۔

 عدالت نے واضح کیا کہ شادی شدہ بیٹی کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو شادی شدہ بیٹے کو حاصل ہوتے ہیں اور اس بنیاد پر ملازمت سے انکار آئین، قانون اور خواتین کے مساوی حقوق کے منافی ہے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری فیصلہ جسٹس سید منصور علی شاہ نے فرخ ناز بنام سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کیس میں تحریر کیا۔ کیس میں درخواست گزار فرخ ناز کی تقرری بطور پرائمری اسکول ٹیچر منسوخ کر دی گئی تھی کیونکہ وہ شادی شدہ تھیں۔

 عدالت نے اس فیصلے کو غیر قانونی اور امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے بحال کر دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریٹائرمنٹ یا وفات پانے والے سرکاری ملازم کے بچوں کے لیے مختص کوٹہ دراصل ریاست کی طرف سے متاثرہ خاندان کی مالی مدد اور والدین کی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اس لیے بیٹے یا بیٹی کی شادی اس حق کو متاثر نہیں کرتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ “شادی عورت کی شخصیت یا اس کے بنیادی حقوق ختم نہیں کرتی،” اور اسے کسی طور پر ملازمت کے لیے نااہل قرار دینا آئین کے آرٹیکلز 14، 25 اور 27 کی خلاف ورزی ہے۔

 عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایک شادی شدہ عورت کو والدین پر بوجھ یا ذمہ داری قرار دینا انتہائی توہین آمیز اور غیر آئینی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مزید لکھا کہ عورت کو کام کرنے یا گھر پر رہ کر خاندان کی دیکھ بھال کرنے کا اختیار دونوں صورتوں میں باعزت ہے۔ قانون اسے اس کی مرضی کے خلاف محدود نہیں کر سکتا۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدالت نے نہیں کر

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔

نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔

 وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ