خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی کیا ضرورت ہے؟ بس ایک سادہ کاغذ لے کر اس پر لکھ دیں کہ یہ قانون ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح تو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کو اٹھانے اور تماشا کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔

پریس کانفرنس میں 26ویں ترمیم کا حوالہ

پشاور میں اسپیکر صوبائی اسمبلی اور پارٹی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران جہاں امن و امان کے لیے جرگہ بلانے کا اعلان کیا گیا، شفیع اللہ جان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران جو تماشا ہوا، وہ اب نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سادہ کاغذ پر لکھ دیں کہ یہ قانون ہے، 27ویں ترمیم پر وہی فلم دوبارہ چلانے کی ضرورت نہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پوری توجہ امن و امان پر ہے

وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں شفیع اللہ جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس وقت مکمل طور پر امن و امان کی صورتحال پر توجہ دے رہے ہیں، اسی لیے اب تک کابینہ کا پہلا اجلاس نہیں بلایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے 12 نومبر کو ایک بڑا امن جرگہ طلب کیا ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کو دعوت دی جائے گی۔

بات چیت کے ذریعے امن کی کوشش

شفیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کسی فوجی آپریشن کے حق میں نہیں بلکہ بات چیت اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔

ان کے مطابق، صوبائی اسمبلی میں حالیہ اجلاس کے دوران امن و امان پر بھرپور بحث کے بعد 37 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں اپوزیشن لیڈر سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔

صوبائی حکومت کا امن کے لیے سنجیدہ عزم

ترجمان نے بتایا کہ اجلاس میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس نے بھی شرکت کی، جبکہ گورنر خیبر پختونخوا کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

شفیع اللہ جان نے کہا کہ 12 نومبر کا جرگہ نئی حکومت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جرگے کے بعد وزیراعلیٰ امن و امان کے حوالے سے ٹی او آرز طے کریں گے۔

اسمبلی میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بحث

صوبائی وزیر پارلیمانی امور بابر سلیم سواتی نے کہا کہ اسمبلی میں صوبے کے امن و امان پر تفصیلی بحث ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے کے حالات اس وقت اچھے نہیں ہیں، مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک خصوصی سیکیورٹی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے 2 اجلاس ہو چکے ہیں، اور کمیٹی کی سفارشات اور ٹی او آرز جلد وزیراعلیٰ کو پیش کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

27 ترمیم ترجمان کے پی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی شفیع اللہ جان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ترجمان کے پی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی شفیع اللہ جان وزیراعلی خیبرپختونخوا خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا کہ بتایا کہ انہوں نے کا کہنا کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن