سٹی42: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے  پاکستان پیپلز پارٹی  کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں27 ویں آئینی ترمیم کے ضمن میں مفصل مشاورت کے بعد کہا  ہے کہ یہ بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے آڑٹیکل  243 میں ترمیم کے حوالے سے حمایت کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی فیصلہ ساز مجلس سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹ کے دو روز تک اسلام آباد میں جاری رہنے والے اجلاس کے اختتام کے بعد صحافیو کے ساتھ گفتگو کی۔ بلاول بھٹو نے بتایا کہ آج پارٹی کی سی ای سی کے دوسرے دن کا اجلاس تھا۔دو دن ہماری بحث ہوئی ۔

ڈالر کی قیمت میں کمی

آڑٹیکل 243 میں ترمیم؛ سویلین بالادستی پر کوئی اثرنہیں ہوگا

بلاول بھٹو نے سی ای سی کے فیصلوں کے متعلق بتاتے ہوئے کہا، ایک بات واضح ہے کہ ہم 243 کے حوالے سے حمایت کریں گے ۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ آرٹیکل 243 (ترمیم) کی منظوری سے صدر کے اختیارات اور سویلین سپر میسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔  243 کا نقصان سول سپر میسی اور جمہوریت کو ہوتا میں خود مخالفت کرتا۔

روزِ اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کیلئے اقدامات کو اولین ترجیح دی؛ وزیراعظم

بلاول بھٹو نے کہا، آئینی عدالتوں کا سوال ہے ۔ یہ  پی پی پی کا ہی نکتہ ہے۔  چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کا ذکر ہے۔آئینی عدالت بننی چاہئے ۔

بلاول بھتو نے کہا، چارٹر آف ڈیموکریسی کے دوسرے نکات پر بھی اتفاق کیا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے دوسرے نکات پر بھی اتفاق ہو۔
 بلاول بھٹو نے مزید کہا،  ججز کے تبادلوں کا سوال ہے ۔ آئین میں لکھا ہے کہ صدر پاکستان جج کی اجازت کے ساتھ تبادلہ کر سکتا ہے 

رکشہ ڈرائیور کو بچانے والا پولیس کانسٹیبل چل بسا

بلاول بھتو نے بتایا کہ (ستائیو ویں ترمیم میں) حکومت چاہتی ہے کہ عدالت اور مشاورت کا سلسلہ ختم ہو۔ حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی تبادلہ کرے ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت سے مشاورت ہو ۔

بلاول بھتو نے کہا، ایک وال یہ زیر بحث آیا کہ  ہائی کورٹ کے ججز کا تبادلہ کیسے ہو؛  پی پی کا مشورہ ہے (ہائی) کورٹ کے چیف جسٹس کو ووٹنگ کا حق نہ ہو ۔

ججز کا تبادلہ اسی فورم سے کیا جائے ۔

  8 نومبر بروز ہفتہ کو مقامی عام تعطیل کا اعلان

بلاول بھتو نے دوسرے موضوعات کے متعلق بتایا، دہری شہریت کا سوال ہے،  الیکشن کمیشن کا سوال ہے ، میجسٹریٹی کا سوال ہے؛  ان پر ہم (سی ای سی کی میٹنگ میں) اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے۔

 بلاول بھٹو زرداری  نے مزید کہا،  آئینی عدالت کو چارٹر آف ڈیموکریسی کے دوسرے نقاط سے مشروط کریں گے۔

تین چار نکات پر مکمل اتفاق، اٹھارویں ترمیم، این ایف سی پر انکار

پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ ۔جمعہ 07نومبر ، 2025

بلاول بھتو نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کو تین چار نکات پر اتفاق ہے؛ ستائیسویں ترمیم اس پر منظور ہو سکتی ہے۔

این ایف سی اور اٹھارویں ترمیم کے نکات پر مسلم لیگ کسی اور سے دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے تو کر لے۔ 

بلاول بھٹو نے واضح الفاظ میں کہا، "پیپلز پارٹی این ایف سی اور اٹھارویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ "

بلاول بھتو نے مزید موضوعات پر بات کرتے ہوئے کہا، بلدیاتی اختیارات سندھ میں موجود ہیں۔  سب سے تگڑا بلدیاتی نظام سندھ میں موجود ہے۔

کسی ڈیزاسٹر میں قومی ذمہ داری

بلاول بھٹو زرداری  نے کہا،  خدا نہ خواستہ کوئی نیشنل ڈزاسٹر ہوگا تو صدر اور وزیر اعظم بھی مدد کریں گے۔

این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی

چئیرمین بلاول بھٹو نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی رائے بتاتے ہوئے کہا، این ایف سی تمام صوبوں کو شیئر دیتا ہے ۔

ہم صوبوں کے شیئر کا تحفظ کریں گے ۔

انہوں نے کہا،  این ایف سی پر ہماری رائے واضح ہے 

وفاق کی معاشی مشکلات ہیں، وفاق خود ان سے نکلے ۔

این ایف سی ایوارڈ پر کچھ لوگ تنقید کرتے ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ اٹھارویں ترمیم سے پہلے دیا گیا تھا۔ 

اٹھارویں ترمیم

چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو جو ذمے داری ملی ہے اس پر عمل کیا جائے۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ  این ایف سی ایوارڈ کے بارے سب سے زیادہ آواز سندھ سے اٹھ رہی  ہے۔ 

سندھ کے عوام این ایف سی کے حق میں ہیں۔ وفاق میں بیورو کریسی ایف بی آر ہے جو ناکام ہوئے ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کو حق دیا ہے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: چارٹر آف ڈیموکریسی ایف سی ایوارڈ اٹھارویں ترمیم بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی آئینی عدالت نے بتایا کہ سی کے دوسرے کا سوال ہے ترمیم کے کریں گے نکات پر نے کہا سی اور

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن