غزہ میں 16 ہزار سے زائد افراد فوری طبی امداد کے منتظر ہیں: عالمی ادارہ صحت
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے کہا ہے کہ غزہ میں 16 ہزار 500 سے زائد افراد فوری طبی امداد کے منتظر ہیں، جن کا علاج علاقے میں ممکن نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ادارے نے حال ہی میں 19 شدید بیمار مریضوں اور ان کے 93 ساتھیوں کو علاج کے لیے اٹلی منتقل کیا ہے۔ انہوں نے اٹلی کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور تعاون قابلِ تحسین ہے۔
ٹیڈروس گیبریسس نے مزید کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی آگے بڑھ کر غزہ کے مریضوں کو علاج کے مواقع فراہم کریں کیونکہ وہاں صحت کی سہولتیں شدید متاثر ہوچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “غزہ میں ہزاروں مریض ایسے ہیں جنہیں فوری علاج کی ضرورت ہے، لیکن ان کے لیے ضروری سہولتیں دستیاب نہیں۔”
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے تمام انخلا کے راستے، بالخصوص مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے راستے کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ مریضوں کو بروقت طبی مراکز تک پہنچایا جا سکے۔
خیال رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث درجنوں اسپتال تباہ ہو چکے ہیں اور طبی عملہ شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں زخمی افراد کو بنیادی علاج کی سہولتیں بھی میسر نہیں۔
مزید یہ کہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔