پنجاب میں آگ سے جنگلات راکھ، تین سال میں 6 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پنجاب میں آگ لگنے کے واقعات سے جنگلات راکھ بنتے جا رہے ہیں، تین سال میں 6 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ متاثر ہو چکا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران پنجاب میں جنگلات میں آگ لگنے کے 268 واقعات پیش آئے جن میں 6117 ایکڑ رقبہ جل کر راکھ بن گیا، ملک بھر میں جنگلات کی آتشزدگی کے 479 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں مجموعی طور پر 15497 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا، جن میں پنجاب کا حصہ تقریباً 40 فیصد رہا۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 جنگلات میں آگ کا بدترین سال ثابت ہوا، پنجاب میں 2023 میں صرف 4 واقعات میں 25 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا جبکہ 2024 میں صورتحال سنگین ہوئی اور 165 واقعات میں 3363 ایکڑ جنگلات جل گئے اسی طرح 2025 میں اب تک 97 واقعات میں 2729 ایکڑ رقبہ تباہ ہو چکا ہے۔بلوچستان میں 2024 میں 2 واقعات میں 590 ایکڑ اور 2025 میں 14 واقعات میں 4629 ایکڑ جنگلات جلے، سندھ میں مجموعی طور پر 5 واقعات میں 63 ایکڑ رقبہ متاثر ہوا، خیبر پختونخوا میں 2024 میں 60 واقعات میں 1235 ایکڑ جنگلات راکھ ہوئے جبکہ 2025 میں کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔اسلام آباد میں 2024 میں 17 واقعات میں 254 ایکڑ اور 2025 میں اب تک 31 واقعات میں 82 ایکڑ علاقہ متاثر ہوا۔ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، غیرقانونی لکڑی کی کٹائی، لاپرواہی اور خشک موسم جنگلاتی آگ میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں، محکمہ جنگلات نے آگ سے بچاؤ کے لئے آگاہی مہمات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور فائر لائنز کی بحالی کی سفارش کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رقبہ متاثر واقعات میں ایکڑ رقبہ متاثر ہوا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔