غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کیلئے طورخم سرحد کھول دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
حکام کے مطابق پاک افغان سرحدی گزرگاہ طورخم کو 20 روز بعد جزوی طور پر کھولا گیا ہے تاکہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری رہ سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کے لیے طورخم سرحد کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پاک افغان سرحدی گزرگاہ طورخم کو 20 روز بعد جزوی طور پر کھولا گیا ہے تاکہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری رہ سکے۔ ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر بلال شاہد کے مطابق سرحد صرف افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کے لیے کھولی گئی ہے جب کہ تجارت اور عام آمدورفت تاحکمِ ثانی بند رہے گی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیکڑوں افغان شہری طورخم امیگریشن سینٹر پہنچ چکے ہیں، جہاں عملہ دستاویزی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں افغانستان جانے کی اجازت دے رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آمدورفت کی مکمل بحالی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر بلال شاہد نے بتایا کہ 11 اکتوبر کو پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم سرحد مکمل طور پر بند کی گئی تھی، تاہم اب سرحد صرف بے دخلی کے لیے جزوی طور پر بحال کی گئی ہے۔ اُدھر یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق 8 اکتوبر تک مجموعی طور پر 6 لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان شہریوں کو طورخم کے راستے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، جب کہ مزید افراد کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان شہریوں کی جزوی طور پر کے مطابق بے دخلی
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں