لاس ویگاس کے قریب صحرائی علاقے سے 300 انسانی باقیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست نیواڈا کے صحرائی علاقے میں لاس ویگاس کے قریب 300 سے زائد انسانی باقیات دریافت ہوئی ہیں، جنہوں نے حکام اور مقامی آبادی کو حیران کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ باقیات دراصل جلائے گئے انسانوں کی راکھ پر مشتمل ہیں، جو بیورو آف لینڈ مینیجمنٹ (بی ایل ایم) کی حدود میں پائی گئی ہے۔ اس مقام پر تجارتی پیمانے پر انسانی راکھ کا اخراج وفاقی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
مقامی شخص کی اطلاع پر جب تفتیش کی گئی تو ابتدا میں 70 پائلز کی نشاندہی ہوئی، تاہم بعد ازاں تعداد بڑھ کر 315 کے قریب جا پہنچی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ہڈیوں کے پاؤڈر کی شکل میں راکھ ہے، جلائی گئی لاشیں نہیں۔
ریاستی قانون کے مطابق ذاتی سطح پر راکھ پھیلانے کی اجازت ہے، تاہم اگر یہ عمل تجارتی نوعیت اختیار کرے یا وفاقی زمین پر انجام دیا جائے تو یہ قانونی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ فی الحال کسی شخص یا ادارے کو ذمہ دار نامزد نہیں کیا گیا اور اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ راکھ کہاں سے لائی گئی، کس مقصد کے لیے پھینکی گئی، اور اس کے پیچھے کون ہے۔
مقامی قبرستانی ادارے Palm Mortuaries & Cemeteries نے دریافت شدہ راکھ کو مخصوص صراحیوں میں محفوظ کر لیا ہے تاکہ اگر متاثرہ خاندان یا لواحقین سامنے آئیں تو انہیں ان باقیات کی حوالگی ممکن بنائی جا سکے۔
تحقیقاتی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے بلکہ سماجی و اخلاقی سوالات بھی اٹھاتا ہے کہ انسانی باقیات کے احترام کے ضوابط کس حد تک نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔