ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے پر حملے میں ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملے میں پولیس قافلے کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا۔پولیس کے مطابق یہ حملہ اُس وقت ہوا جب پولیس قافلہ امن کمیٹی کے اجلاس سے واپس آرہا تھا۔ڈی پی او ہنگو خان زیب خان کے مطابق دوآبہ تھانے کے علاقے کربوغہ شریف میں پولیس کی امن کمیٹی کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں ایس پی انوسٹی گیشن عبدالصمد خان، ڈی ایس پی مجاہد حسین اور دیگر افسران شریک تھے۔ اجلاس کے بعد واپسی پر شرپسندوں نے سڑک کنارے نصب ریمورٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے پولیس قافلے کو نشانہ بنایا۔دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او عمران الدین اور تین جوان زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال دوآبہ منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، جبکہ پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ادھر،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ہنگو میں پولیس گاڑی پر آئی ای ڈی حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔وزیراعلیٰ نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی اور متعلقہ حکام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: میں پولیس کے مطابق

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری