پشاورتھانے میں دھماکا، اہلکار شہید۔ہنگو میں ایس ایچ او سمیت 2 اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-01-20
راولپنڈی /میران شاہ /پشاور /ہنگو (مانیٹرنگ ڈیسک)پشاور تھانے میں دھماکے سے اہلکار شہید ہوگیا۔ ہنگو میں بم دھماکے ایس ایچ او سمیت 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ شمالی وزیرستان میں پاک ،افغان سرحد کے قریب فورسز کی کارروائی میں 2 خوارج ہلاک اور5 زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابقشمالی وزیرستان میں پاکستان،افغانستان سرحد کے قریب سیکورٹی فورسز نے اہم کارروائی کرتے ہوئے 2 خوارج کو ہلاک کر دیا۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ خوارج کے خلاف کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 2 خوارج ہلاک ہوئے‘ ہلاک ہونے والے خوارج میں سے ایک کا تعلق افغان طالبان سے ہے۔مزید بتایا گیا کہ کامیاب کارروائی میں مزید 2 خوارج کے ہلاک اور 4 سے 5 کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے پر آئی ای ڈی حملے کے نتیجے میں ایس ایچ اوعمران الدین سمیت 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس قافلے کو نشانہ اس وقت بنایا گیا جب پولیس افسران سرچ آپریشن سے واپس آ رہے تھے۔پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او تھانہ دوآبہ عمران الدین سمیت زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال ہنگو منتقل کر دیا گیا۔ پشاور میں سی ٹی ڈی پولیس اسٹیشن کے اندر دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا پولیس اسٹیشن کے اسلحہ خانے میں موجود پرانے بارودی مواد کے پھٹنے کے نتیجے میں ہوا۔ دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جو دیگر گولہ بارود تک بھی پھیل گئی، جس سے مزید دھماکے ہوئے۔ تمام ملزمان کو حوالات سے بحفاظت نکال لیا گیا۔
پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سی ٹی ڈی تھانے میں دھماکے سے شہید اہلکار کی نماز جناز ہ کے بعد دعا کررہے ہیں، چھوٹی تصویر میں سی ٹی ڈی تھانے کے اسلحہ خانے میں دھماکے بعد شعلے بلند ہورہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے نتیجے میں زخمی ہوگئے ایس ایچ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔