ہنگو میں پولیس قافلے پر ریموٹ کنٹرول دھماکا، ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او عمران الدین سمیت 2 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
ایس پی انوسٹی گیشن عبدالصمد خان کے مطابق، پولیس افسران کربوغہ میں امن کمیٹی کے ساتھ میٹنگ کے بعد دوآبہ واپس آ رہے تھے کہ راستے میں روڈ کنارے نصب بم سے ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ہنگو میں گیس پلانٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 6 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے
دھماکے میں زخمی اہلکاروں کو ٹی ایچ کیو اسپتال دوآبہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایس پی انوسٹی گیشن، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ایک ہی قافلے میں سفر کر رہے تھے جب دھماکا پیش آیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بھی ہنگو میں ایس پی آپریشنز زبیر کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایس پی زبیر اور 2 اہلکار شہید ہو گئے تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس حملہ ہنگو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس حملہ ہنگو ایس پی
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔