ہنگو میں پولیس قافلے پر ریموٹ کنٹرول دھماکا، ایس ایچ او سمیت دو اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او عمران الدین سمیت 2 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
ایس پی انوسٹی گیشن عبدالصمد خان کے مطابق، پولیس افسران کربوغہ میں امن کمیٹی کے ساتھ میٹنگ کے بعد دوآبہ واپس آ رہے تھے کہ راستے میں روڈ کنارے نصب بم سے ان کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ہنگو میں گیس پلانٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 6 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے
دھماکے میں زخمی اہلکاروں کو ٹی ایچ کیو اسپتال دوآبہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
ایس پی انوسٹی گیشن، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ایک ہی قافلے میں سفر کر رہے تھے جب دھماکا پیش آیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بھی ہنگو میں ایس پی آپریشنز زبیر کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایس پی زبیر اور 2 اہلکار شہید ہو گئے تھے۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس حملہ ہنگو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس حملہ ہنگو ایس پی
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔