ہنگو، پولیس کے قافلے پر بم حملہ، ایس ایچ او سمیت 2 اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ذرائع نے کہا کہ پولیس قافلے میں ایس پی انوسٹی گیشن عبدالصمد، ڈی ایس پی ٹل مجاہد اور ایس ایچ او عمران الدین جا رہے تھے۔ پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ایچ او عمران الدین زخمی ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے پر دھماکے کے نتیجےمیں ایس ایچ او عمران الدین سمیت 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ ہنگو پولیس نے بتایا کہ دھماکہ کے بعد فائرنگ بھی کی گئی، پولیس قافلے کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ پولیس قافلے میں ایس پی انوسٹی گیشن عبدالصمد، ڈی ایس پی ٹل مجاہد اور ایس ایچ او عمران الدین جا رہے تھے۔ پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ایچ او عمران الدین زخمی ہو گئے۔ ایس ایس پی انویسٹیگیشن عبد الصمد خان نے بتایا کہ پولیس امن کیمٹی کے اجلاس واپس آ رہی تھی، ہمارے ساتھ پولیس قافلے کو نشانہ بنایا گیا، واقعے میں ایس ایچ او عمران الدین خان سمیت دو اہلکار زخمی ہوئے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے حملے کا نوٹس لے کر آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے واقعے میں زخمی ایس ایچ او اور اے ایس آئی کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے حوصلے اور فرض شناسی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس ایچ او عمران الدین پولیس قافلے کہ پولیس میں ایس ایس پی
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔