مودی ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں اور انکا ریموٹ کنٹرول بڑے کاروباریوں کے ہاتھوں میں ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے تمام بڑے فیصلے جیسے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کا مقصد چھوٹے کاروباروں کو تباہ کرنا اور بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نہ صرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے "خوفزدہ" ہیں بلکہ ان کا "ریموٹ کنٹرول" بڑے کاروباریوں کے ہاتھ میں ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے بہار میں انتخابی مہم میں حصہ لیا اور این ڈی اے پر سخت حملہ کیا۔ راہل گاندھی نے بیگوسرائے اور کھگڑیا اضلاع میں لگاتار ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت چوڑا سینہ ہونا آپ کو مضبوط نہیں بناتا۔ ذرا مہاتما گاندھی کو دیکھیں، جو دبلے تھے لیکن اس وقت کے سپر پاور انگیزروں سے مقابلہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دوسری طرف ہمارے پاس 56 انچ کے سینے کی گھمنڈ کے ساتھ نریندر مودی ہیں، جنہیں ٹرمپ نے آپریشن سندور کے دوران فون کیا، جس کی وجہ سے مودی گھبراہٹ کا شکار ہوگئے اور پاکستان کے ساتھ فوجی تنازعہ دو دن میں ختم ہوگیا، وہ نہ صرف ٹرمپ سے خوفزدہ ہیں، بلکہ امبانی اور اڈانی کے ہاتھوں میں ان کا ریموٹ کنٹرول ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 1971ء میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو امریکہ نے دھمکی دی تھی، لیکن وہ خوفزدہ نہیں ہوئیں اور انہوں نے وہ سب کچھ کیا جس کی ضرورت تھی، لیکن جب ٹرمپ نے مودی کو آپریشن سندور روکنے کے لئے کہا تو انہوں نے اسے روک دیا۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کے تمام بڑے فیصلے جیسے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کا مقصد چھوٹے کاروباروں کو تباہ کرنا اور بڑے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نقطہ نظر مختلف ہے، ہم چھوٹے کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں، ہم آپ کے فونز اور ٹی شرٹس پر میڈ ان چائنا لیبلز کو بہار کے ٹیگز سے بدلنا چاہتے ہیں۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ مودی ووٹوں کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں، راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ووٹوں کے لئے اسٹیج پر بھی ناچیں گے۔ الیکشن کے دن تک آپ جو کچھ کہیں گے، مودی وہی کریں گے لیکن انتخابات کے بعد وہ صرف اپنے پسندیدہ اداروں کے لئے ہی کام کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے نے کہا کہ انہوں نے کے لئے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز