بہار کے وزیراعلٰی کو اپنے 20 سالہ دور اقتدار کا حساب دینا چاہیئے، اشوک گہلوت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
راجستھان کے سابق وزیراعلٰی نے کہا کہ نریندر مودی نے 2015ء سے بہار کیلئے 50,000 کروڑ روپے سے لیکر 1.25 لاکھ کروڑ روپے تک کے پیکجوں کا اعلان کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس نے بہار اسمبلی انتخابات کے لئے این ڈی اے کے منشور کو "جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے پارٹی کے سینیئر لیڈر اور راجستھان کے سابق وزیراعلٰی اشوک گہلوت نے ہفتہ کو بہار کے وزیراعلٰی نتیش کمار کے 20 سالہ دور حکومت کا حساب مانگا۔ اشوک گہلوت نے پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ این ڈی اے کا منشور جاری کرنا خود ایک واقعہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پارٹی کی جانب سے صرف 26 سیکنڈ کے اندر منشور جاری کیا گیا۔ اشوک گہلوت نے کہا کہ این ڈی اے کے لیڈر میڈیا سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور سماج کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ بی جے پی اور این ڈی اے "جمہوریت کا نقاب" پہن کر مذہب کے نام پر حکومتیں بنا رہے ہیں۔
اشوک گہلوت نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2015ء سے بہار کے لئے 50,000 کروڑ روپے سے لے کر 1.
پرساد سنگھ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے ہی وزیراعلٰی کو آگے بڑھانے اور نتیش کمار کو سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں کانگریس کی حکومت کے دوران ملک میں کل چینی کی پیداوار کا 27 فیصد ریاست میں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ آج یہ دو فیصد سے نیچے گر گیا ہے، اسی طرح عوامی شعبے کی سرمایہ کاری میں بہار ملک کی ریاستوں میں 28ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ پرساد سنگھ نے مزید الزام لگایا کہ وزیر اعظم بہار کی زمین اپنے دوستوں میں بانٹ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں زمین کی کمی ہے اس کے باوجود وزیر اعظم کے دوستوں کو ایک روپے میں 1000 ایکڑ زمین دی جارہی ہے۔ پرساد سنگھ نے کہا کہ نتیش کے دور حکومت میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پرساد سنگھ نے کروڑ روپے کیا ہے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔