وقار یونس نے مجھے نئی گاڑی خریدنے اور برانڈ کے کپڑے پہننے پر ٹیم سے نکالا، عمر اکمل کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
معروف کرکٹر عمر اکمل نے سابق کپتان اور ہیڈ کوچ وقار یونس پر اپنے کیریئر کو تباہ کرنے کا الزام عائد کردیا۔
ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے عمر اکمل نے کہا کہ وقار یونس نوجوان کھلاڑیوں سے حسد کرتے تھے کیونکہ وہ نئی گاڑیاں خریدنے کے قابل ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ’آپ کو شرم آنی چاہیے‘، بابر اعظم کے خلاف بات کرنے پر عمر اکمل ٹی وی شو میں لڑ پڑے
عمر اکمل کا کہنا تھا کہ اللہ نے جو دیا ہے، میں اپنے اور اپنے خاندان کی خواہشات پوری کر رہا ہوں، اس میں کیا برائی ہے؟ وہ اکیلے نہیں بلکہ ان کے ساتھ کھیلنے والے دیگر کرکٹرز، جن میں رانا نویدالحسن بھی شامل ہیں، اس بات کی گواہی دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نئی گاڑی خریدنے اور برانڈیڈ کپڑے پہننے کی وجہ سے ٹیم سے باہر کیا گیا۔ وقار کہتے تھے کہ تمہیں اتنے پیسے کیسے مل گئے؟
ان کا کہنا تھا کہ پہلے کھلاڑی ایسی چیزیں خریدنے کے قابل نہیں تھے، لیکن جب اللہ نے دیا ہے تو اپنے اوپر خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: باربی اکمل عمر اکمل کی منفرد لباس میں تصویر وائرل
عمر اکمل نے مزید کہا کہ وہ وقار یونس کا بطور سینیئر کھلاڑی احترام کرتے ہیں، مگر کوچ کے طور پر نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2016 میں ورلڈ کپ کے موقع پر انہوں نے پی سی بی کو خطوط اور فائلیں جمع کروائیں اور تجویز دی کہ اگر وقار یونس کو ہٹا دیا جائے تو ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
35 سالہ عمر اکمل نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے غیر ملکی لیگز کے کئی مواقع مسترد کیے تاکہ پاکستان کے لیے کھیل سکیں۔ میری پہلی ترجیح ہمیشہ پاکستان ہی رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمر اکمل کرکٹ وقار یونس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عمر اکمل کرکٹ وقار یونس عمر اکمل نے وقار یونس انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔