Juraat:
2026-07-24@06:41:16 GMT

بہار کے انتخابی دنگل میں مسلمان

اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT

بہار کے انتخابی دنگل میں مسلمان

معصوم مرادآبادی

بہار میں چناؤ کا اسٹیج پوری طرح تیار ہے ۔یہاں اصل مقابلہ’این ڈی اے ‘ اور’انڈیا اتحاد’ کے درمیان ہے ۔انڈیا اتحاد’مہا گٹھ بندھن’ کے نام سے چناؤ لڑرہا ہے ، جس میں سات پارٹیاں شامل ہیں۔ اس اتحاد کی ساری امیدیں مسلم رائے دہندگان کے ساتھ ہیں جو ریاست کے 13 کروڑ ووٹروں میں اٹھارہ فیصد کے قریب ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ بہار کا ووٹر دیگر صوبوں کے مقابلہ میں زیادہ باشعور اور بالغ ہے اور وہ اپنا ووٹ ضائع نہیں کرتا۔ انڈیا اتحاد کی طرف سے اس الیکشن میں لالو پرشاد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو وزیراعلیٰ کا چہرہ ہیں اور ان کے ساتھ ہی ملاح سماج کے مکیش سہنی کو نائب وزیراعلیٰ کے طورپر پیش کیا گیا ہے ۔ یہیں سے دراصل مسلم حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہوئی ہیں کہ جب دوتین فیصد ووٹوں والے ملاح برادری کے لیڈر کو نائب وزیراعلیٰ کا چہرہ بنایا جاسکتا ہے تو پھر اٹھارہ فیصد مسلم رائے دہندگان کی نمائندگی کرنے والے کسی مسلمان کو یہ عہدہ کیوں نہیں مل سکتا۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ نائب وزیراعلیٰ سے ہوتی ہوئی مسلم وزیراعلیٰ تک پہنچ گئی ہے ۔
مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بہار میں اپنی پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے سوال کیا کہریاست میں مسلم وزیراعلیٰ کیوں نہیں ہوسکتا؟ حالانکہ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 17/فیصد ہے ۔’ بیرسٹر اویسی نے مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک کے لیے حکمراں این ڈی اے اور اپوزیشن انڈیا اتحاد دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ مجلس اتحاد المسلمین اس بار بہار کی32/اسمبلی نشستوں پر چناؤ لڑرہی ہے ۔ بہار کیگزشتہ چناؤ میں مجلس کوپانچ نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور یہ تلنگانہ کے باہر کسی ریاست میں اس کی سب سے بڑی کامیابی تھی، لیکن درمیان میں مجلس کے چار ممبران اسمبلی نے بغاوت کرکے آرجے ڈی میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور اس واقعہ کے بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب شاید ہی بیرسٹر اویسی بہار کا رخ کریں گے ، لیکن اب وہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ بہار اسمبلی الیکشن لڑرہے ہیں۔
گزشتہ ہفتہ بیرسٹر اویسی نے گوپال گنج سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے سوال کیا کہ”بہار میں مسلمان وزیراعلیٰ کیوں نہیں بن سکتا؟ جہاں 17فیصد مسلمان رہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان جماعتوں کو ایک ایسے شخص کو نائب وزیراعلیٰ بنانے میں کوئی دقت نہیں ہے ، جو آبادی کے صرف تین فیصد حصے کی نمائندگی کرتا ہو۔ بیرسٹر اویسی نے اس سلسلہ میں انڈیا اتحاد کی جانب سے نشاد لیڈر مکیش سہنی کو نائب وزیراعلیٰ کے عہدے کی پیشکش کا حوالہ دیا جو وکاس شیل انسان پارٹی کے سربراہ ہیں۔ بیرسٹر اویسی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس، آرجے ڈی اور سماجوادی پارٹی جیسی جماعتوں کو مسلمانوں کے ووٹ چاہئیں، وہ بی جے پی سے ڈراکر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتی ہیں لیکن یہ بی جے پی کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ وہ کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں سے ووٹ مانگتی ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان پارٹیوں کے جھوٹ کو بے نقاب کیا جائے ۔ یہ پارٹیاں ٹکٹوں کی تقسیم میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے حصہ نہیں دے سکتیں۔ مسلمانوں کو اپنی قیادت بنانے پر توجہ دینی چاہئے ۔بہار میں کسی مسلمان کو نائب وزیراعلیٰ کا چہرہ بنانا اس وقت انڈیا اتحاد کی مجبوری ہے کیونکہ یہ مسئلہ اب سنگین رخ اختیار کرتا جارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بہار کانگریس کے انچارج کرشنا الاورو نے یہ اشارہ دیا ہے کہ”مہاگٹھ بندھن کی سرکار میں کانگریس سے دوسرا نائب وزیراعلیٰ مسلمان ہوسکتا ہے ۔ ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بہار میں مہا گٹھ بندھن کی طرف سے مسلمانوں کو نظرانداز کئے جانے کی بات گھر گئی ہے اور انڈیا اتحاد اس معاملے میں فکر مند نظر آتا ہے ۔ فکر مندی کی اصل وجہ یہ ہے کہ بہار میں پولنگ کے دن سرپر ہیں اور اگر ایسے میں مسلمان تذبذب کا شکار ہوگئے تو اس کا بڑا نقصان مہا گٹھ بندھن کو پہنچ سکتا ہے ۔حالانکہ عام خیال یہی ہے کہ بہار میں مسلم ووٹوں کی اکثریت آرجے ڈی کے حق میں جائے گی۔
ایسا نہیں ہے کہ بہار میں کبھی کوئی مسلمان وزیراعلیٰ نہ رہا ہو۔ جن لوگوں کی یادداشت اچھی ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ چچا عبدالغفور بہار میں 1973 سے 1975تک کانگریس کے وزیراعلیٰ رہے ۔بہار ہی نہیں آسام میں بھی انورہ تیمور کانگریس کی وزیراعلیٰ ر ہیں۔ اتنا ہی نہیں مہاراشٹر جیسی ریاست جہاں مسلم آبادی دس فیصد سے بھی کم ہے عبدالرحمن انتولے کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا،جو آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی کے معتمد خاص تھے ، لیکن ملک کے موجودہ حالات میں جبکہ مسلمان حاشئے پر پہنچادئیے گئے ہیں کشمیر کے علاوہ کسی مسلمان کو کسی اورریاست کا وزیراعلیٰ پروجیکٹ کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔ ماضی میں ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی اہمیت اس درجہ رہی ہے کہ سیکولر اسٹیج پر کسی مسلمان لیڈر کو بٹھانا سیاسی ضرورت سمجھی جاتی تھی، لیکن جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے سیکولر پارٹیوں کے لیے بھی مسلمان’اچھوت’ بن گئے ہیں۔یہ پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹ تو چاہتی ہیں، لیکن انھیں حصہ داری نہیں دینا چاہتیں۔ ان کا خیال ہے کہ مسلمان بی جے پی سے خوفزدہ ہوکر انھیں ووٹ دے گا۔
بہار میں کسی مسلمان کو وزیراعلیٰ بنانے کا مطالبہ نیا نہیں ہے ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ لوک جن شکتی پارٹی کے صدر رام ولاس پاسوان نے سب سے پہلے یہ موضوع اچھالا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیٹے اور لوک جن شکتی پارٹی کے موجودہ صدر چراغ پاسوان نے کہا ہے کہ”میرے والد رام ولاس پاسوان نے کسی مسلمان کو وزیراعلیٰ بنانے کے لیے اپنی پارٹی تک قربان کردی تھی، لیکن مسلمانوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ انھوں نے راشٹریہ جنتا دل پر الزام عائد کیا کہ وہ2005میں بھی مسلم وزیراعلیٰ کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسی لیے 2025کے چناؤ میں بھی ڈپٹی سی ایم کے عہدے کے لیے کسی مسلمان کی حصہ داری یقینی نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان اگر صرف ووٹ بینک بن کررہیں گے تو انھیں عزت اور اقتدار میں حصہ داری نہیں ملے گی۔
راشٹریہ جنتا دل بہار میں مسلم ووٹوں کی سب سے بڑی دعویدار پارٹی ہے اور وہ اس مرحلے میں جبکہ چناؤبالکل سرپر ہیں یہ ہرگز نہیں چاہے گی کہ انتخابی ماحول میں کوئی بدمزگی پیدا ہو۔آرجے ڈی کے لیے کسی مسلمان کانام نائب وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے پیش کرنے کے خطرات اور بھی ہیں۔ آرجے ڈی میں نئے اور پرانے مسلم لیڈروں کی بھرمار ہے اور یہ سب ذات پات کے حصار میں قید ہیں۔ بہار میں اونچے اور نیچے طبقوں کی تفریق اتنی زیادہ ہے کہ اگر کسی ایک طبقہ کے مسلم لیڈر کانام نائب وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے پیش کیا گیا تو دوسرا طبقہ لازمی طورپر ناراض ہوجائے گا۔اس لیے راشٹریہ جنتا دل یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔بہرحال بہار کے انتخابی میدان میں بی جے پی کو چھوڑ کر تمام ہی سیکولر اور نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے ۔سبھی کو یہ امید ہے کہ مسلمان اسے ووٹ دیں گے اور سبھی مسلمانوں کی خیرخواہی کے دعویدار بھی ہیں۔6/اور11/ نومبر کو دومرحلوں میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخابات میں آرجے ڈی نے اپنے 143/ امیدواروں میں 18/ مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں جبکہ کانگریس کے مسلم امیدواروں کی تعداد دس ہے ۔جنتا دل (یو) کے 101/امیدواروں میں مسلمانوں کی تعداد محض چار ہے ۔ جبکہ چراغ پاسوان کی پارٹی نے اپنے 29 امیدواروں میں صرف ایک مسلمان محمد کلیم الدین کو بہادر گنج سے ٹکٹ دیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کتنے مسلمان کامیاب ہوکر اسمبلی میں پہنچتے ہیں۔2020کے اسمبلی چناؤ میں 24/ مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے ۔ بہار میں کم وبیش پچاس سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان ہارجیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مسلم اکثریتی حلقے سیمانچل میں واقع ہیں اور سبھی پارٹیاں یہاں مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پیر ماررہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کو نائب وزیراعلی بیرسٹر اویسی نے ہے کہ بہار میں کسی مسلمان کو مسلمانوں کے انڈیا اتحاد کہ مسلمان اتحاد کی بی جے پی جنتا دل کے عہدے نہیں ہے آرجے ڈی کے ساتھ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم