پی آئی اے کے متعدد طیاروں کی عدم دستیابی سے فلائٹ آپریشن شدید متاثر، وجہ بھی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
قومی ایئرلائن کے متعدد طیارے اس وقت تکنیکی وجوہات اور مینٹیننس تاخیر کے باعث آپریشن کے لیے دستیاب نہیں ہیں، پرواز پی کے 225 اب بھی ڈیلی چیک کے تحت گراؤنڈ پر ہے۔
اے پی بی ایم ایکس رجسٹریشن کا حامل طیارہ جو کراچی تا اسلام آباد پی کے 308 کے تحت آپریٹ کر رہا تھا، اس کو انجن نمبر 1 کے ایگزاسٹ کون سلیو میں نقص کے باعث سروس سے نکال دیا گیا جس کے نتیجے میں پی کے 308/309 اور 451/452 منسوخ کر دی گئیں۔
جمعرات کی شام اسلام آباد کراچی پی کے 369 منسوخ کی گئی جبکہ اسلام آباد/اسکردو کی دوطرفہ پروازیں پی کے 451-452 منسوخ کی گئیں۔
کئی انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک پروازوں میں بھی نمایاں تاخیر دیکھنے میں آ رہی ہے جن میں پی کے 287 (اسلام آباد تا دوحہ)، پی کے 286 (دوحہ تا پشاور) اور پی کے 217 اور 262 (پشاور–ابوظہبی–اسلام آباد) شامل ہیں۔ دبئی تا سیالکوٹ کی پرواز بریک سسٹم خرابی کے باعث دبئی میں گراؤنڈ ہے۔
پروازوں کی تاخیر اور منسوخیاں صرف فلیٹ پلاننگ کی کمزوری یا مینجمنٹ کی ناقص حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک اور سنگین مسئلہ اسکلڈ مین پاور اور پرزہ جات کی کمی بھی ہے۔
ان دونوں عوامل کے باعث طیاروں کی بروقت مینٹیننس ممکن نہیں ہو رہی، جب تک مطلوبہ پرزہ جات اور تربیت یافتہ انجینئرز دستیاب نہیں ہوں گے کسی بھی طیارے کی مینٹیننس مکمل یا محفوظ طریقے سے انجام نہیں دی جا سکتی۔
سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (سیپ) کسی بھی ایسی مینٹیننس سرگرمی میں حصہ نہیں لے گی جس میں طیارے کی حفاظت یا ایئروردینس پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔
انجینئرز کی اولین ترجیح ہمیشہ سیفٹی اور فلائٹ ویلیویشن اسٹینڈرڈز کو برقرار رکھنا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں آپریشنل تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔
اسکِلڈ ٹیکنیکل اسٹاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ضروری اسپئیر پارٹس اور کمپونینٹس کی مستقل دستیابی کے لیے مؤثر سپلائی چین سسٹم قائم کیا جائے اور فلیٹ مینجمنٹ و شیڈولنگ میں حقیقت پسندانہ پلاننگ اختیار کی جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ادارے کی ساکھ اور مسافروں کا اعتماد مزید متاثر ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے باعث
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔