Jasarat News:
2026-07-24@06:52:32 GMT

نماز:تعدیلِ ارکان

اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اللہ تعالیٰ کو بندوں کے ایسے اعمال پسند ہیں جو سنوار کر کیے گئے ہوں اور حُسن و خوبی سے متصف ہوں۔ قرآن پاک میں ہے:
”اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے زیادہ خوب صورت عمل کس کے ہیں“ (الملک: 1-2)۔
دیکھیے یہ نہیں فرمایا کہ زیادہ عمل کس کے ہیں بلکہ فرمایا خوب صورت عمل کس کے ہیں۔ گویا اللہ کو ہماری طرف سے صرف اعمال نہیں‘ خوب صورت اعمال مطلوب ہیں۔ ہم اپنی نمازوں کو کس طرح مؤثر اور خوب صورت بنائیں؟ اس ضمن میں ہم تعدیل ارکان کا ذکر کریں گے۔

مفھوم اور تقاضے
تعدیل بمعنی توازن و اعتدال میں دو باتیں شامل ہیں: ایک یہ کہ اعمال نماز میں سے ہر عمل کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا جائے۔ عجلت اور تیز رفتاری سے پڑھے جانے والے اذکار و آیات پر تفکر و تدبر ممکن نہیں ہوتا۔ جملے اور الفاظ غیر شعوری طور پر‘ سرعت کے ساتھ یکے بعد دیگرے زبان سے ادا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ذہن الفاظ پر ٹک ہی نہیں سکتا۔
تعدیل کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ ارکان و اعمال باہم متوازن و متناسب ہوں‘ مثلاً ایسا نہ ہو کہ رکوع بہت مختصر اور سجدہ بہت طویل ہو‘ یا قومہ (رکوع کے بعد کھڑے ہونے کا وقفہ) بس براے نام ہی ہو اور نمازی رکوع سے سر اُٹھاتے ہی سجدے میں گر پڑے۔ نماز میں حُسن اسی صورت میں پیدا ہوگا جب نماز کے تمام اعمال باہم متناسب و متوازن بھی ہوں اور ادا بھی ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے کیے جائیں۔
عہد نبویؐ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک آدمی نے مسجد نبوی میں نماز پڑھی۔ نبی اکرمؐ بھی قریب ہی تشریف فرما تھے۔ نمازی نے جلدی جلدی نماز ادا کی۔ پھر آنحضرتؐ کے قریب آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ آپؐ نے اسے فرمایا: لوٹ جا اور دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ راوی حدیث سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ اس شخص نے تین یا چار مرتبہ نماز پڑھی کیونکہ حضوؐر ہر مرتبہ فرماتے کہ پھر نماز پڑھ‘ تیری نماز نہیں ہوئی۔ آخر اس نے عرض کیا: حضوؐر مجھے سکھائیے کس طرح پڑھوں؟ آپؐ نے فرمایا: ہر رکن کو اطمینان و سکون سے ٹھہر ٹھہر کر ادا کر۔ آپؐ نے قومے‘ جلسے‘ رکوع اور سجدے کا علیحدہ علیحدہ ذکر کیا اور ہر ایک کو اطمینان وسکون سے ادا کرنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ حدیث کی صحیح ترین کتابوں بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے۔
آپ نے غور فرمایا اس آدمی کی نماز میں کیا خامی تھی۔ وہ نماز کو جلدی جلدی اور سر سے بوجھ اُتارنے کے انداز میں پڑھتا تھا۔ آپؐ نے اسے تاکید فرمائی کہ نماز کے سارے اعمال ٹھہر ٹھہر کر اور سنوار کر ادا کرے۔ یہی تعدیل ہے اس کے بغیر نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہوتی۔

مجدد الف ثانیؒ کی رائے
حضرت مجدد الف ثانیؒ تعدیل ارکان کے ضمن میں اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: حضرت رسالت مآبؐ ایک نمازی کے پاس سے گزرے۔ دیکھا کہ ارکان قومہ‘ جلسہ وغیرہ کو ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر رہا تو فرمایا: ’’گر تو اسی عادت پر مرگیا تو قیامت کے دن میری اُمت میں نہ اٹھے گا‘‘۔
ایک اور روایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’زید بن وہب نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہا ہے اور رکوع و سجود وغیرہ ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر رہا۔ آپ نے اسے بلاکر پوچھا: تو کب سے اس طرح کی نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے کہا: 40 سال سے۔ فرمایا: اس 40 سال کے عرصے میں تیری کوئی نماز نہیں ہوئی۔ اگر تو مرگیا تو نبیؐ کی سنت پر نہ مرے گا‘‘۔
ذرا آگے چل کر مکتوب الیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’پس چاہیے کہ تعدیل ارکان‘ یعنی رکوع‘ سجود اور قومہ‘ جلسہ کی بخوبی ادایگی کے لیے کوشش کی جائے اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کی جائے‘ کیوں کہ اکثر لوگ اس دولت سے محروم ہیں اور یہ عمل متروک ہوتا جا رہا ہے۔ اس عمل کا زندہ کرنا دین کی ضروریات میں سے ہے‘‘۔ رسولؐ نے فرمایا ہے: ’’جو شخص میری کسی مُردہ سنت کو زندہ کرتا ہے تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے‘‘ (مکتوب‘ دفتر دوم)۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نماز میں پڑھے جانے والے الفاظ کو نمازی زبان سے ادا کرے۔ ہونٹ ہلائے بغیر دل ہی دل میں پڑھنا درست نہ ہوگا۔ نماز انفرادی ہو تو پھر موقع چاہے قیام کا ہو یا تشہد کا‘ رکوع کا ہو یا سجدے کا‘ الفاظ کو اس طرح ادا کرنا چاہیے کہ پڑھنے والے کے اپنے کان انھیں سنیں۔ نیز ہمیشہ ایک ہی سورت‘ مثلاً سورۂ اخلاص کی تکرار نہ کی جائے۔ سورئہ فاتحہ کے ساتھ دوسری سوروں کو بدل بدل کر پڑھنا چاہیے۔ اس طرح قرأت میں مشینی انداز ختم ہوگا اور شعوری طور پر پڑھنے کا رجحان پیدا ہوگا۔

چند تدابیر
نماز میں تیز رفتاری کی عادت نہایت ناپسندیدہ ہے۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ:
1- آیات و اذکار کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے ایک ایک جملے کو ٹک کر پڑھتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ نمازی ہر جملہ ارادے سے پڑھے‘ نہ کہ یاد سے۔
2- انفرادی نمازوں میں رکوع اور سجدے میں صرف تین مرتبہ تسبیح پڑھنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ پانچ یا سات یا دس مرتبہ پڑھی جائیں اور ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے پڑھی جائیں۔
3- وہ دعائیں اور اذکار یاد کر کے پڑھنے کو معمول بنایا جائے جو رسولؐ رکوع و سجود وغیرہ میں پڑھتے تھے‘ مثلاً قومے میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمد کے بعد یہ دعا پڑھی جائے: حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارکاً فِیْہِ (ایسی تعریف جو کثرت والی ہے‘ پاکیزہ ہے اور برکت والی ہے)۔ دونوں سجدوں کے درمیان پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھائی گئی ہے: اَللّٰھُمَ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ (اے اللہ! میری بخشش فرما‘ مجھ پر رحم فرما‘ مجھے عافیت‘ ہدایت اور رزق عطا فرما)۔ علی ہذاالقیاس۔ دعائوں کی تفصیل کے لیے کسی حدیث کی کتاب سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
4: ’’…اور رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کو اطمینان سے ادا کرنا چاہیے‘ یعنی رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہوکر ایک تسبیح کی مقدار رکنا چاہیے اور دو سجدوں کے درمیان ایک تسبیح کی مقدار بیٹھنا چاہیے تاکہ قومہ اور جلسہ میں اطمینان حاصل ہو۔ جو شخص ایسا نہ کرے وہ چوروں میں داخل ہے‘‘ (اشارہ ہے اس حدیث کی طرف جس کا مضمون یہ ہے کہ بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے)۔
یہ اقتباس حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ایک مکتوب سے اخذ کیا گیا ہے۔ جلدبازی کی عادت ختم کرنے کے لیے یہ ایک عمدہ تدبیر ہے اور احادیث ہی سے اخذ کی گئی ہے‘ یعنی ایک رکن ختم ہونے پر فوراً دوسرا نہ شروع کیا جائے۔ قیام میں قرأت مکمل ہونے پر فوراً رکوع میں جانے کے بجاے ذرا توقف کیا جائے۔ رکوع کی تسبیحات پڑھ لینے کے بعد فوراً قومے کے لیے کھڑے ہونے کے بجاے معمولی سا توقف کرلیا جائے۔ یوں اعمالِ نماز میں ایک طرح کا ٹھہرائو اور وقار پیدا ہوگا۔ حضرت مجدد نے صرف قومے اور جلسے کے توقف کا ذکر کیا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اسی میں کوتاہی کرتے ہیں۔

پروفیسر محمد اسحاق گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹھہر ٹھہر کر کیا جائے نماز پڑھ یہ ہے کہ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر