Jasarat News:
2026-07-24@08:22:13 GMT

آئینی ترمیم: وزرا و ارکان پارلیمنٹ کے غیرملکی دورے منسوخ

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251106-01-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن / صباح نیوز) 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے اہم معاملے کے پیش نظر وزیراعظم نے تمام وفاقی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کے غیر ملکی دورے فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام وزرا اور پارلیمانی ارکان اسلام آباد میں موجود رہیں تاکہ ترمیم کے حوالے سے اجلاس اور مشاورتی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد 27 ویں ترمیم کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر مکمل توجہ دینا اور ملکی مفاد میں فوری اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ترمیم کی منظوری کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورت اور حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہے‘ اس اقدام کے بعد وفاقی کابینہ اور پارلیمانی کمیٹیاں تمام متعلقہ امور پر اسلام آباد میں فوری اجلاس کر رہی ہیں، تاکہ ترمیمی عمل کی رفتار اور ملکی مفاد میں فیصلہ سازی بلا تعطل مکمل ہو سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اہم ٹاسک دیدیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہاؤس بزنس مشاورتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم 14 نومبر کو قومی اسمبلی سے منظور کرائی جائے گی جبکہ ایوان کا موجودہ اجلاس بھی 14نومبر تک جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے اور شیڈول کی بھی باقاعدہ منظوری دی گئی تاہم تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ پارلیمنٹ سے27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے نمبر گیم اہمیت اختیار کرگیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے لیے237 ارکان کی حمایت حاصل ہے جب کہ حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں۔ قومی اسمبلی میں ن لیگی ارکان کی تعداد 125 اور پیپلز پارٹی کے 74 ارکان ہیں۔ ایم کیو ایم کے 22، پاکستان مسلم لیگ 5، آئی پی پی کے 4 ارکان حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ ان کے علاوہ ضیا لیگ، نیشنل پارٹی، باپ پارٹی کا ایک ایک رکن اور 4 آزاد ارکان بھی حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 89 ہے۔ دوسری جانب سینیٹ میں حکمران اتحاد کے اراکین 61 ہیں اور اپوزیشن اراکین کی تعداد 35 ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے لیے 64 اراکین کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں جے یو آئی یا اے این پی کے 3 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلاول زرداری کا حق ہے کہ وہ اظہار رائے کریں‘ تمام پارٹیوں سے مشاورت کے بعد جو شکل نکلے گی وہ سامنے لے آئیں گے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم وفاق کے لیے خطرہ ہے اور ترمیم کا حق صرف ان اراکین اسمبلی کو حاصل ہے جو مینڈیٹ لے کر آئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پورے ملک میں ہلچل ہے کہ وفاق صوبوں پر حملہ آور ہو رہا ہے، موجودہ حکومت نے 16 نشستوں کے ساتھ حکومت سنبھالی تھی ‘آئین میں ترمیم ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر، وفاقی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ 27 ویں آئی ترمیم پر حکومت سے ہم نے خود رابطہ کیا، حکومت سمجھتی ہے کہ آئینی ترمیم سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی مگر وقت کا تقاضا ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ اسلام آباد میں ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور امین الحق نے27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال اور 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمن کو مجوزہ ترمیم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام میں مولانا کا ہمیشہ اہم اور متوازن کردار رہا ہے، اور امید ہے کہ وہ اس بار بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے جواب میں کہا کہ جے یو آئی ایک ذمہ دار پارلیمانی جماعت ہے جو آئین کی محافظ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے نہیں آتا، اس پر کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ مولانا نے مزید کہا کہ مسودہ سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی، قانونی ٹیم اور شوریٰ سے مشاورت کی جائے گی تاکہ تفصیلی جائزے کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جا سکے۔ انہوں نے فیصل واوڈا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم جیسے حساس امور میں جلد بازی کے بجائے سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ نمبرز کا مسئلہ نہیں ترمیم کی منظوری کے لیے نمبرز پورے ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ترمیم کی منظوری کے لیے ویں ا ئینی ترمیم ا ئینی ترمیم کے ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اسلام ا باد فیصل واوڈا کرتے ہوئے حکومت کو ویں ا ئی کے بعد کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن