پی ٹی آئی کی جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کو امن جرگے میں شرکت کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے جرگہ 12 نومبر کو طلب کیا گیا ہے جس کے لیے حکومتی جماعتی پی ٹی آئی تمام سیاسی پارٹیوں سے رابطہ کر رہی ہے۔
اسی سلسلے کے تحت تحریک انصاف کا وفد جماعت اسلامی سیکرٹریٹ پہنچا اور جرگے میں شرکت کی دعوت دی۔ وفد میں صوبائی وزیر آفتاب عالم، سابق وزیر کامران بنگش، عرفان سلیم اور شیر علی ارباب شامل تھے۔
صوبائی وزیر شیر علی ارباب کا کہنا تھا کہ جرگے کی دعوت دینے آئے ہیں، ہم چاہتے ہیں امن کے لیے تمام سیاسی جماعتیں ساتھ چلیں اور تمام سیاسی جماعتیں آگے آئیں، امن کی بات کریں کیونکہ امن ہوگا تو سکون ہوگا اور معاشی صورتحال بہتر ہوگی۔
رہنما جماعت اسلامی عنایت اللہ کا کہنا تھا کہ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے بھی جرگے کی دعوت دی ہے، کوآرڈینیشن کمیٹی فیصلہ کرے گی کون شرکت کرے گا، ہم جرگے کی دعوت قبول کرتے ہیں، جماعت اسلامی اختلاف برائے اختلاف سے گریز کرتی ہے۔
دوسری جانب، اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین ملک حبیب نور اورکزئی سے رابطہ کیا۔ اسپیکر نے پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کو امن جرگے میں شرکت کی دعوت دی۔
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین ملک حبیب نور اورکزئی سے صوبے کی موجودہ صورتحال، عوامی مفادات اور امن کے قیام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔
پی ٹی آئی کے وفد نے قومی وطن پارٹی کے صوبائی مرکز وطن کور کا دورہ بھی کیا اور جرگے کی دعوت دی۔ حکومتی وفد میں ایم این اے ارباب شیر علی، سابق وزیر کامران بنگش، ارباب عاصم خان اور ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر عرفان سلیم شامل تھے۔
وفد نے صوبائی چیئرمین سکندر خان شیر پاؤ کو امن جرگے میں شرکت کا دعوت نامہ دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا جرگے میں شرکت جماعت اسلامی جرگے کی دعوت کی دعوت دی پی ٹی آئی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔