پوپ لیو کی ٹرمپ پر تنقید: تارکین وطن کے غیرانسانی سلوک کو ناقابل قبول قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران مہاجرین سے روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیرِ حراست تارکینِ وطن کی مذہبی اور روحانی ضروریات کا احترام ضروری ہے۔ پوپ کے بیان کے بعد امریکی کیتھولک رہنماؤں میں مہاجرین کے حق میں آواز بلند کرنے کا نیا جذبہ پیدا ہوا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویٹیکن سٹی کے قریب کاسٹیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ امریکا میں زیرِ حراست مہاجرین کے ساتھ رویہ “گہرے غور و فکر” کا متقاضی ہے۔ان سے شکاگو کے قریب براڈ ویو نامی وفاقی حراستی مرکز میں قید ان مہاجرین کے بارے میں سوال کیا گیا جنہیں مذہبی فریضہ، مقدس کمیونین، ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔پوپ لیو، جو خود بھی شکاگو سے تعلق رکھتے ہیں، نے بائبل کے انجیلِ متی کے باب 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، یسوع مسیح نے واضح طور پر فرمایا کہ آخرت میں یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اجنبیوں کا استقبال کیسے کیا؟ انہیں اپنایا یا انکار کیا؟ ہمیں آج اسی پہلو پر گہرے غور کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ “بہت سے ایسے لوگ جو برسوں سے امن سے رہ رہے تھے، موجودہ پالیسیوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔پوپ لیو، جو امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ ہیں، ماضی میں بھی امریکی حکومت کے سخت گیر امیگریشن اقدامات پر تنقید کر چکے ہیں۔انہوں نے براڈ ویو حراستی مرکز کے حوالے سے کہا کہ “زیرِ حراست افراد کی روحانی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ میں حکام کو دعوت دیتا ہوں کہ مذہبی عملے کو ان قیدیوں کی خدمت کی اجازت دی جائے۔”رپورٹس کے مطابق، یکم نومبر (آل سینٹس ڈے) کے موقع پر ایک بشپ سمیت چرچ کے وفد نے زیرِ حراست افراد کو مقدس کمیونین دینے کی کوشش کی.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پوپ فرانسس کی حراست افراد ہے انہوں نے پوپ لیو نے رکھتے ہیں کی اجازت کے مطابق کی ضرورت افراد کو کے قریب کرنے کی کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔