کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران مہاجرین سے روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ زیرِ حراست تارکینِ وطن کی مذہبی اور روحانی ضروریات کا احترام ضروری ہے۔ پوپ کے بیان کے بعد امریکی کیتھولک رہنماؤں میں مہاجرین کے حق میں آواز بلند کرنے کا نیا جذبہ پیدا ہوا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویٹیکن سٹی کے قریب کاسٹیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ امریکا میں زیرِ حراست مہاجرین کے ساتھ رویہ “گہرے غور و فکر” کا متقاضی ہے۔ان سے شکاگو کے قریب براڈ ویو نامی وفاقی حراستی مرکز میں قید ان مہاجرین کے بارے میں سوال کیا گیا جنہیں مذہبی فریضہ، مقدس کمیونین، ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔پوپ لیو، جو خود بھی شکاگو سے تعلق رکھتے ہیں، نے بائبل کے انجیلِ متی کے باب 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، یسوع مسیح نے واضح طور پر فرمایا کہ آخرت میں یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اجنبیوں کا استقبال کیسے کیا؟ انہیں اپنایا یا انکار کیا؟ ہمیں آج اسی پہلو پر گہرے غور کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ “بہت سے ایسے لوگ جو برسوں سے امن سے رہ رہے تھے، موجودہ پالیسیوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔پوپ لیو، جو امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ ہیں، ماضی میں بھی امریکی حکومت کے سخت گیر امیگریشن اقدامات پر تنقید کر چکے ہیں۔انہوں نے براڈ ویو حراستی مرکز کے حوالے سے کہا کہ “زیرِ حراست افراد کی روحانی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ میں حکام کو دعوت دیتا ہوں کہ مذہبی عملے کو ان قیدیوں کی خدمت کی اجازت دی جائے۔”رپورٹس کے مطابق، یکم نومبر (آل سینٹس ڈے) کے موقع پر ایک بشپ سمیت چرچ کے وفد نے زیرِ حراست افراد کو مقدس کمیونین دینے کی کوشش کی.

تاہم حکام نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔شکاگو میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق وہاں تین ہزار سے زائد افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔پوپ لیو، جنہیں رواں سال مئی میں مرحوم پوپ فرانسس کی جگہ منتخب کیا گیا، اپنے پیشرو کے مقابلے میں نسبتاً محتاط انداز رکھتے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں انہوں نے ٹرمپ حکومت پر کھل کر تنقید شروع کی ہے.جس پر بعض قدامت پسند امریکی کیتھولک رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا ہے۔انہوں نے اپنی پہلی بڑی دستاویز، جو 9 اکتوبر کو جاری کی گئی، میں دنیا سے مہاجرین کی مدد کرنے کی اپیل کی اور پوپ فرانسس کی سابقہ تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ پالیسیوں پر نرمی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں پوپ لیو نے امریکا کی جانب سے وینزویلا کے قریب جنگی بحری جہاز بھیجنے پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ، فوج کا مقصد امن کا دفاع ہونا چاہیے، نہ کہ کشیدگی بڑھانا۔ تشدد سے کبھی جیت حاصل نہیں ہوتی، اصل راستہ مکالمہ اور باہمی حل تلاش کرنا ہے۔پوپ لیو، جو خود بھی شکاگو سے تعلق رکھتے ہیں، نے بائبل کے انجیلِ متی کے باب 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، یسوع مسیح نے واضح طور پر فرمایا کہ آخرت میں یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اجنبیوں کا استقبال کیسے کیا؟ انہیں اپنایا یا انکار کیا؟ ہمیں آج اسی پہلو پر گہرے غور کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ “بہت سے ایسے لوگ جو برسوں سے امن سے رہ رہے تھے، موجودہ پالیسیوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔”پوپ لیو، جو امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے پوپ ہیں، ماضی میں بھی امریکی حکومت کے سخت گیر امیگریشن اقدامات پر تنقید کر چکے ہیں۔انہوں نے براڈ ویو حراستی مرکز کے حوالے سے کہا کہ “زیرِ حراست افراد کی روحانی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ میں حکام کو دعوت دیتا ہوں کہ مذہبی عملے کو ان قیدیوں کی خدمت کی اجازت دی جائے۔شکاگو میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق وہاں تین ہزار سے زائد افراد کو حراست میں رکھا گیا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔پوپ لیو، جنہیں رواں سال مئی میں مرحوم پوپ فرانسس کی جگہ منتخب کیا گیا، اپنے پیشرو کے مقابلے میں نسبتاً محتاط انداز رکھتے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں انہوں نے ٹرمپ حکومت پر کھل کر تنقید شروع کی ہے، جس پر بعض قدامت پسند امریکی کیتھولک رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا ہے۔انہوں نے اپنی پہلی بڑی دستاویز، جو 9 اکتوبر کو جاری کی گئی، میں دنیا سے مہاجرین کی مدد کرنے کی اپیل کی اور پوپ فرانسس کی سابقہ تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ پالیسیوں پر نرمی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں پوپ لیو نے امریکا کی جانب سے وینزویلا کے قریب جنگی بحری جہاز بھیجنے پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ، فوج کا مقصد امن کا دفاع ہونا چاہیے، نہ کہ کشیدگی بڑھانا۔ تشدد سے کبھی جیت حاصل نہیں ہوتی، اصل راستہ مکالمہ اور باہمی حل تلاش کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق، یکم نومبر (آل سینٹس ڈے) کے موقع پر ایک بشپ سمیت چرچ کے وفد نے زیرِ حراست افراد کو مقدس کمیونین دینے کی کوشش کی. تاہم حکام نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پوپ فرانسس کی حراست افراد ہے انہوں نے پوپ لیو نے رکھتے ہیں کی اجازت کے مطابق کی ضرورت افراد کو کے قریب کرنے کی کہا کہ

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل