پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت کے درمیان شراکت اقتدار کا معاملہ طے ہوجانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار (پاور شیئرنگ) فارمولے پر مثبت پیشرفت کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی: حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی، ’چور چور‘ کے نعرے
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے بڑھ گئے ہیں اور کئی اہم معاملات پر افہام و تفہیم کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔
ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کر دیےن لیگ کی صوبائی قیادت نے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کر دیے ہیں۔
حکومتی پارٹی نے اپنی اتحادی پیپلز پارٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کے حلقوں میں ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں گے۔
پیپلز پارٹی کے تقریباً 30 ایم پی ایز اور ٹکٹ ہولڈرز کے حلقے اس پیکیج میں شامل ہوں گے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کر سکیں۔
اہم محکموں میں حصہ دینے کی تجویزذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ قانون پنجاب میں لا آفیسرز کی نئی بھرتیوں میں بھی پیپلز پارٹی کو حصہ دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: ریڈ لائن کراس ہوگئی، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ سی ای سی میں لایا جائے گا، رہنما پیپلز پارٹی قاسم علی گیلانی
علاوہ ازیں ضلعی رابطہ و رابطہ کاری کمیٹیوں میں بھی پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
پاور شیئرنگ فارمولے پر جلد حتمی مشاورت متوقعدریں اثنا سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو پنجاب میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان عملی اشتراک عمل کا نیا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب کی ترقی سے جلنے والوں کے دماغ کی صفائی کررہی ہوں، مریم نواز کی مخالفین پر پھر تنقید
دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت جلد ہی حتمی فریم ورک پر مشاورت کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب اور پی پی کا پاور شیئرنگ فارمولا پی پی اور پنجاب حکومت میں مفاہمت پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت ن لیگ اور پی پی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی پی اور پنجاب حکومت میں مفاہمت پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت ن لیگ اور پی پی پیپلز پارٹی کے پنجاب حکومت کے درمیان
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار