نجکاری کمیشن بورڈ اجلاس، 3 ہوائی اڈوں کوپرائیویٹائز کرنے کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)نجکاری کمیشن بورڈ نے 3 ہوائی اڈوں کو موجودہ نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کردی۔وزیرِاعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی زیرِ صدارت نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں 3 ہوائی اڈوں کو موجودہ نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے تین ایئر پورٹس سے متعلق کابینہ کی نجکاری کمیٹی کو سفارش بھیجی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق اس اقدام کے تحت ہوائی اڈوں کا انتظام طویل مدتی رعایتی بنیاد پر نجی شعبے کو دیا جائے گا۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ایچ بی ایف سی ایل، قومی ایئر لائن اور تین انٹرنیشنل ایئر پورٹس کی نجکاری سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
اعلامیہ کے مطابق ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کے لیے ریفرنس پرائس اور سیل پرچیز ایگریمنٹ فائنل ہوگیا ہے۔ بولی ریفرنس پرائس کی منظوری اور کابینہ کی توثیق کے بعد کھولی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اعلامیہ کے مطابق ہوائی اڈوں
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔