صدر زرداری کی قطری وزیراعظم سے ملاقات، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی سے دوحہ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں قطر کی قیادت کے اقدامات کو سراہا اور فیفا ورلڈ کپ 2022 کے کامیاب انعقاد پر قطری قیادت کو مبارک باد دی۔
اعلامیہ کے مطابق قطری وزیراعظم نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بہادری کی تعریف کی۔
صدر مملکت نے قطر کو پاکستان میں بالخصوص اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ قطر کے وزیراعظم نے کہا قطر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کا حجم مزید بڑھائے گا۔
اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری، خاتونِ اول آصفہ بھٹو اور پاکستان کے سفیر نے بھی شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔