ٹریفک کیمروں کی نگرانی کے دوران وائرل تصویروں پر ڈی آئی جی ٹریفک کا بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی ٹریفک) کراچی پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ ٹریفک کنٹرول کیمروں کی نگرانی کے دوران لوگوں کی نجی سرگرمیوں سے متعلق وائرل ہونے والی دو تصویروں پر انکوائری جاری ہے.محمد شاہ کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر پیر تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آجائے گی کہ یہ تصاویر واقعی ٹریفک کنٹرول کیمروں کی ہیں یا پرائیویٹ کیمروں سے لی گئی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے خبردار کیا کہ نمبر پلیٹ سے ٹریفک کنٹرول کیمروں کو دھوکا دینے والے خود کو چھوٹے مسائل سے بچانے کے لیے بڑے مسئلوں میں پھنس رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نمبر پلیٹ میں جعلسازی کرنے والی تمام گاڑیاں بلیک لسٹ کی جائیں گی، جب بھی گاڑی پکڑی گئی تو سیدھی ایف آئی آر کٹے گی۔دوسری جانب انسپیکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) سندھ غلام نبی میمن نے صوبے بھر میں بغیر نمبر پلیٹ چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے ہیں۔آئی جی آفس کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی کراچی، تمام رینج اور زون کے ڈی آئی جیز، ضلعی ایس ایس پیز ، ڈی آئی جی سی آئی اے اور ایس ایس پی اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ دیکھا گیا ہے کہ صوبے بھر میں روڈ پر بہت سی بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں چل رہی ہیں۔خط کے مطابق ایسی گاڑیوں کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف موٹر وہیکل آرڈیننس اور متعلقہ رولز کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے۔خط کے متن کے مطابق ایسی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے اور اس کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر آئی جی سندھ کو ارسال کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نمبر پلیٹ
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔