سوڈان میں فوج نے اومدرمان اور اٹبارا پر ڈرون حملے ناکام بنا دیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خرطوم: سوڈانی فوج نے دارالحکومت خرطوم کے مغربی شہر اومدرمان اور شمالی علاقے اٹبارا پر کیے گئے ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، فوج کے فضائی دفاعی نظام نے علی الصبح کئی ڈرونز کو راستے میں ہی تباہ کردیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اومدرمان کے شمالی حصوں میں فجر سے قبل شدید اینٹی ایئرکرافٹ فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، اسی طرح اٹبارا سے بھی شہریوں نے اطلاع دی کہ تقریباً صبح 3 بجے ڈرونز کے جھنڈ نے شہر کو نشانہ بنایا، جس کے بعد فوجی تنصیبات سے گولہ باری کی آوازیں آئیں۔
تاحال ہلاکتوں یا نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں جب کہ فوج یا نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی جانب سے حملوں پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حملے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے کیے گئے، جو حال ہی میں امریکا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل کواڈ گروپ کی تجویز کردہ انسانی جنگ بندی سے اتفاق کر چکی ہے ، RSF نے جنگ بندی کی شرائط یا عملدرآمد کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جبکہ نہ ہی کواڈ گروپ اور نہ ہی فوج نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ کیا ہے۔
سوڈانی حکام کا کہنا ہے کہ RSF گزشتہ کئی ہفتوں سے خرطوم اور دیگر شہروں میں شہری علاقوں پر ڈرون حملے کر رہی ہے، تاہم تنظیم نے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
واضح رہے کہ 15 اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری خانہ جنگی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کے باوجود جنگ بندی کے قیام میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔