صاحبزادہ حامد رضا کی گرفتاری اور سزا ریاستی فسطائیت کی واضح مثال ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
ایک بیان میں چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا کو بے بنیاد اور من گھڑت مقدمے میں سزا سنانا موجودہ مسلط نظام کے ظلم و جبر اور انتقامی رویے کا کھلا ثبوت ہے، ایسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں انصاف نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو دبانے کی روش غالب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے صاحبزادہ حامد رضا کے خلاف کئے گئے فیصلے کو ناانصافی، ریاستی فسطائیت اور ظلم کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صاحبزادہ حامد رضا ایک نڈر، بے باک اور محبِ وطن سیاست دان ہی نہیں بلکہ ایک روشن ضمیر مذہبی رہنما بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق، صداقت اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے بے خوف آواز بلند کی۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ان کو بے بنیاد اور من گھڑت مقدمے میں سزا سنانا موجودہ مسلط نظام کے ظلم و جبر اور انتقامی رویے کا کھلا ثبوت ہے، ایسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں انصاف نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو دبانے کی روش غالب ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف قانون و انصاف کی توہین ہے بلکہ جمہوریت اور انسانی وقار پر بدنما داغ بھی ہے۔ اس ظلم کے خلاف ہر محب وطن اور آزاد فکر شہری پر لازم ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ اس نظامِ جبر کے خلاف آواز بلند کرے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی ہر موقع پر صاحبزادہ حامد رضا اور سنی اتحاد کونسل کے ساتھ حق و اصول کی راہ میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں، اور آج بھی اسی عزم و استقامت کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے مقابل ڈٹ جانا ہی ایمان اور غیرتِ ملی کا تقاضا ہے اور ہم اس فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔