ایک بیان میں چیئرمین ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا کو بے بنیاد اور من گھڑت مقدمے میں سزا سنانا موجودہ مسلط نظام کے ظلم و جبر اور انتقامی رویے کا کھلا ثبوت ہے، ایسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں انصاف نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو دبانے کی روش غالب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے صاحبزادہ حامد رضا کے خلاف کئے گئے فیصلے کو ناانصافی، ریاستی فسطائیت اور ظلم کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صاحبزادہ حامد رضا ایک نڈر، بے باک اور محبِ وطن سیاست دان ہی نہیں بلکہ ایک روشن ضمیر مذہبی رہنما بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق، صداقت اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے بے خوف آواز بلند کی۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ان کو بے بنیاد اور من گھڑت مقدمے میں سزا سنانا موجودہ مسلط نظام کے ظلم و جبر اور انتقامی رویے کا کھلا ثبوت ہے، ایسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں انصاف نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو دبانے کی روش غالب ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف قانون و انصاف کی توہین ہے بلکہ جمہوریت اور انسانی وقار پر بدنما داغ بھی ہے۔ اس ظلم کے خلاف ہر محب وطن اور آزاد فکر شہری پر لازم ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ اس نظامِ جبر کے خلاف آواز بلند کرے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی ہر موقع پر صاحبزادہ حامد رضا اور سنی اتحاد کونسل کے ساتھ حق و اصول کی راہ میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے ہیں، اور آج بھی اسی عزم و استقامت کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے مقابل ڈٹ جانا ہی ایمان اور غیرتِ ملی کا تقاضا ہے اور ہم اس فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان