امریکی شٹ ڈاؤن: 40 بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک میں جاری شٹ ڈاؤن کے باعث پروازوں میں بڑے پیمانے پر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے مطابق اگر حکومت اور کانگریس کے درمیان شٹ ڈاؤن معاہدہ طے نہ پایا تو جمعے سے درجنوں بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی تعداد میں 10 فیصد تک کمی کردی جائے گی۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے بدھ کو نیوز کانفرنس میں بتایا کہ یہ فیصلہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی شدید قلت کے باعث کیا گیا ہے جو کئی ہفتوں سے بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں، ہم نے کنٹرولرز سے کام پر آنے کی درخواست کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مالی دباؤ میں ہیں اور اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکل محسوس کر رہے ہیں ۔
ابتدائی فہرست کے مطابق نیویارک، واشنگٹن، شکاگو، اٹلانٹا، ڈلاس، فینکس اور سیئٹل سمیت ملک کے 40 مصروف ترین ہوائی اڈے متاثر ہوں گے،ایف اے اے کے ایڈمنسٹریٹر برائن بیڈفورڈ نے کہا کہ ہم ائیر لائنز کے ساتھ مل کر شیڈول میں کمی کریں گے تاکہ فضائی نظام کی حفاظت برقرار رہے۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی چیئرپرسن جینیفر ہومینڈی نے بھی اس فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور یہ اقدام حفاظت کے نقطہ نظر سے ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق ائیر لائنز کو یہ فیصلہ صرف ایک گھنٹہ پہلے بتایا گیا،وہ حکومتی اداروں سے رابطے میں ہیں تاکہ مسافروں اور سامان کی ترسیل پر اثرات کم سے کم کیے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق جمعے سے پروازوں میں کمی کا عمل شروع ہوگا جو آئندہ ہفتے تک بتدریج بڑھایا جائے گا، یہ تبدیلیاں صرف کمرشل فلائٹس ہی نہیں بلکہ اسپیس لانچز اور چھوٹے طیاروں پر بھی لاگو ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔