امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث پروازوں میں تاخیر، روزمرہ زندگی بری طرح متاثر
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
امریکا میں جاری تاریخی شٹ ڈاؤن نے فضائی نظام سمیت کئی شعبوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک بھر کے ایئرپورٹس پر ہزاروں پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں شٹ ڈاؤن نیویارک میئر کے انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ FlightAware کے مطابق ہر روز ہزاروں پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حکومت کی بندش کے باعث ایوی ایشن سیفٹی، خوراک کی امدادی اسکیمیں اور دیگر عوامی سہولیات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ واشنگٹن میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ نے تعطل کو مزید طویل کر دیا ہے۔
This is going to be a shitshow, so we need to remind each other to be patient and kind.
???? The FAA announced major restrictions that experts say could lead to thousands of flights being canceled as the government shutdown drags into day 37. pic.twitter.com/DX81gksSIB
— Christopher Webb (@cwebbonline) November 6, 2025
ایئرپورٹس پر مسافروں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جب کہ ایئر ٹریفک کنٹرول عملے کی کمی کے سبب پروازوں کی روانگی اور آمد میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔
جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ کے علاوہ لاس اینجلس، شکاگو اور اٹلانٹا کے ہوائی اڈوں پر بھی یہی صورتحال ہے۔
فضائی ماہرین کے مطابق اگر یہ تعطل مزید طویل ہوا تو امریکا کے ایوی ایشن نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ ایئر ٹریفک کنٹرول اور فلائٹ مینجمنٹ سسٹم میں تکنیکی عملہ جزوی طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔
شٹ ڈاؤن کے باعث نہ صرف ہوابازی بلکہ عام شہری زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ فوڈ اسٹیمپ پروگرامز، ہیلتھ ایڈ، اور سرکاری دفاتر میں کام بند ہونے سے لاکھوں امریکی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے جلد مفاہمت نہ کی تو شٹ ڈاؤن کا بحران امریکا کے اندر ایک بڑا معاشی اور انتظامی بحران جنم دے سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پروازوں میں تاخیر شٹ داؤن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پروازوں میں تاخیر شٹ ڈاؤن
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔