دیکھتے ہیں ممدانی نیویارک میں کیسا کام کرتے ہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیکھتے ہیں ظہران ممدانی نیویارک میں کیسا کام کرتے ہیں، ہم ان کی تھوڑی مدد کریں گے۔
میامی میں بزنس فورم سے خطاب کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کو ہتھیار ڈالنا پڑگئے، انہوں نے اپنی پالیسی پر یوٹرن لیتے ہوئے نیویارک کے نئے منتخب میئر سے تعاون کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک کے لوگوں نے بائیں بازو کے ظہران ممدانی کو میئر منتخب کرکے امریکا کی ’خودمختاری‘ کھو دی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایک کمیونسٹ امریکا کے سب سے بڑے شہر کا میئر بن گیا ہے، دیکھتے ہیں وہ کیسے اقدامات کرتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں نیویارک کامیاب ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا جوہری طاقت میں نمبر ون ہے، لیکن اس کے اعتراف سے نفرت ہے، روس دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ چار پانچ سال میں چین ہمارے برابر آجائے گا۔ دیکھتے ہیں تینوں ممالک کے درمیان تخفیف اسلحہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔
تقریب کے آخر میں امریکی صدر ٹرمپ نے رقص بھی کیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے الیکشن سے پہلے خبردار کیا تھا کہ ممدانی منتخب ہوئے تو وہ انہیں منصوبوں کے لیے فنڈز نہیں دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دیکھتے ہیں امریکی صدر
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔