کاہنہ کی رہائشی مغوی خاتون فوزیہ کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت تفتیش کی جاتی تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹرعثمان انور عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور کیس کی پیش رفت پر عدالت کو آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اس مقدمے کو انسانی اسمگلنگ کے زاویے سے بھی دیکھ رہی ہے، کیونکہ پنجاب پولیس اب تک 100 سے زائد بچیوں کو ہیومن ٹریفکنگ کے کیسز میں بازیاب کرا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   214 افسران کی سوشل میڈیا پر ذاتی تشہیر، لاہور ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کر لیا

انہوں نے مزید بتایا کہ تمام صوبوں کے آئی جیز کو بھی خطوط لکھے گئے ہیں تاکہ اگر کسی کے علم میں کوئی معلومات ہوں تو فراہم کی جا سکیں۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ مغوی فوزیہ کا کوئی فنگر پرنٹ ریکارڈ موجود نہیں ہے،

تاہم پولیس نے اس مقام کی مکمل چھان بین کی ہے جہاں وہ رہتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون کا ایک بچہ بھی تھا جو شادی کے 5 برس بعد ہوا۔

مزید پڑھیں: پنجاب آگاہی اور معلومات کی ترسیل ایکٹ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

پولیس رپورٹ کے مطابق جب فوزیہ گھر سے گئی تو اس وقت بچہ صرف 3 ماہ کا تھا، جسے وہ پیچھے چھوڑ گئی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ ابتدا میں یہ کہا گیا کہ خاتون کو اغوا کر کے لے جایا گیا، لیکن اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ وہ اپنا سارا سامان سمیٹ کر خود ہی گئی تھیں۔

چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا لڑکی کی ساس کا پولی گراف ٹیسٹ کرایا گیا؟

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں جنات کے خلاف خاتون کے اغوا کا مقدمہ زیرسماعت، تحقیقاتی کمیٹی سرگرم

جس پر آئی جی پنجاب پولیس نے جواب دیا کہ مغوی خاتون کی ساس سمیت تمام اہلِ خانہ کے پولی گرافک ٹیسٹ کرائے گئے ہیں، ساس کے فون سے 109 کالز کا بھی فورینزک تجزیہ کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں سے ایک گھریلو خاتون بازیاب نہیں ہو رہی، اگر بروقت تفتیش کی جاتی تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خاتون زندہ ہے یا نہیں، اس حوالے سے مثبت پیش رفت اور واضح جواب درکار ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

عدالت نے آئی جی پنجاب کو 10 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کو بھی ہدایت کی کہ اگر ان کے علم میں کوئی نئی بات آئے تو فوراً پولیس کو آگاہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی جی پولیس پنجاب جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس عثمان انور فوزیہ کاہنہ گھریلو خاتون ہیومن ٹریفکنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی جی پولیس جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس فوزیہ کاہنہ گھریلو خاتون ہیومن ٹریفکنگ جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائیکورٹ چیف جسٹس نے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور