اسٹاک ایکسچینج میں 1100 پوائنٹس کی کمی، سرمایہ کاروں پر دباؤ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
ابتدائی مثبت رجحان کے بعد جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی دیکھی گئی، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرادے ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 1100 پوائنٹس نیچے آگیا۔
مارکیٹ نے کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں کیا، تاہم جلد ہی فروخت کے دباؤ کے باعث مجموعی طور پر مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہفتے بھر مندی کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں نئی جان، انڈیکس میں 2 ہزار پوائنٹس کا اضافہ
دوپہر 2:30 بجے کے قریب بینچ مارک انڈیکس 158,497.
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -230.94 points (-0.14%) at midday trading. Index is at 159,347.26 and volume so far is 115.36 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/0AwLa7otOZ
— Investify Pakistan (@investifypk) November 6, 2025
فروخت کے دباؤ کا سامنا متعدد اہم شعبوں میں ہوا، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، ریفائنری اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے شامل ہیں۔
انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز جیسے اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک سب کے سب منفی زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
گزشتہ روز یعنی بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں مندی دیکھی گئی تھی، جب منافع کے حصول اور نئی معاشی یا سیاسی پیش رفت کی کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
اس روز کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1,703.58 پوائنٹس یعنی 1.06 فیصد کی کمی ہوئی اور انڈیکس 159,578.19 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی منڈیوں میں جمعرات کو ایشیائی حصص بازاروں میں بہتری دیکھنے میں آئی، جو ایک روز قبل کی شدید فروخت کے بعد بحالی کا عندیہ دیتی ہے۔
یہ بہتری امریکی معیشت کے مثبت اعداد و شمار کے بعد سامنے آئی، جس سے سرمایہ کاروں نے دوبارہ خطرہ مول لینے کی حکمتِ عملی اختیار کی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 32 گھنٹوں کے دوران انڈیکس میں 36,00 سے زائد پوائنٹس کی کمی
امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار بدھ کے منافع کے ساتھ مستحکم رہی کیونکہ سرمایہ کاروں نے اگلے ماہ ممکنہ فیڈرل ریزرو کے شرحِ سود میں کمی کے امکانات کو مزید کم کردیا۔
اس پیش رفت نے امریکی ڈالر کو 5 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رکھا۔
امریکا سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر میں سروسز سیکٹر کی سرگرمی 8 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جب کہ پرائیویٹ سیکٹر میں 42,000 نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا، جو توقعات سے بہتر تھا۔
اس سے امریکی اسٹاک مارکیٹس میں بھی بہتری آئی، جہاں ٹیکنالوجی شیئرز کی بلند قیمتوں سے متعلق خدشات میں کمی اور مثبت کمپنی منافع جات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا۔
مزید پڑھیں:سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
ایشیائی منڈیوں میں جاپان کا نِکی انڈیکس بدھ کو 2.5 فیصد گرنے کے بعد جمعرات کو 1.5 فیصد بڑھ گیا، جب کہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس بھی کاروبار کے آغاز پر 2 فیصد سے زائد بڑھا، جو گزشتہ روز 2.85 فیصد نیچے آیا تھا۔
اسی طرح ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک (جاپان کے علاوہ) انڈیکس بھی 0.32 فیصد بلند ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئل مارکیٹنگ امریکا انٹرادے ٹریڈنگ انڈیکس ایشیا پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریفائنری سروسز سیکٹر سیمنٹ کمرشل بینک مندی میزان بینک نیشنل بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئل مارکیٹنگ امریکا انٹرادے ٹریڈنگ انڈیکس ایشیا پاکستان اسٹاک ایکسچینج ریفائنری سروسز سیکٹر اسٹاک ایکسچینج میں پاکستان اسٹاک کے بعد
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن