سینیٹ قائمہ کمیٹی نے دو وزراء کے پی ایس ڈی پی میں منصوبوں کو مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
سینیٹر قراۃ العین مری کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کے اجلاس میں کمیٹی نے دو وفاقی وزراء کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں منصوبوں کو مسترد کر دیا۔
قائمہ کمیٹی نے شيخوپورہ میں بین الاقوامی ادارے نے سینٹر آف ایکسیلنس بنانے پر اظہار تشویش کیا۔
چیئر پرسن کمیٹی نے کہا کہ ادارہ فنڈز بھی نہیں دے رہا اور سینٹر آف ایکسیلنس بنایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت کےفنڈز وہاں استعمال کرنےکا پلان ہے جہاں دو زرعی تحقیقی ادارے ہیں۔
کمیٹی نے نارووال کے ان دو منصوبوں کے لیے فنڈز نہ دینے کی ہدایت کر دی۔
کمیٹی رکن سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ہمارے دو ریسرچ ادارے موجود ہیں نئے ادارے کی ضرورت نہیں ہے، ایسے ادارے کی ضرورت نہیں ہے پہلے سے موجود اداروں کی استعداد بڑھائی جائے۔
سینیٹر جام سیف اللہ نے کہا کہ کچھ اپنے دوستوں کو خوش کرنے کیلئے منصوبے وزیر منصوبہ بندی لے کر آتے ہیں، سارے منصوبے نارووال میں شروع کیے جا رہے ہیں یہ فنڈز احسن اقبال کے ذاتی نہیں، پاکستان کے عوام کے فنڈز کو عوام پر خرچ کرنا چاہیے، وزیر منصوبہ بندی آکر بتائیں وہ صرف چند لوگوں کو کیوں خوش کررہے ہیں؟
چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ وزیر منصوبہ بندی اور وزیر مملکت کو کمیٹی میں آنا چاہیے، جام سیف اللّٰہ بولے کمیٹی اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی نہ آئے تو وزیر اعظم اور چیئرمین سینیٹ کو لکھیں گے۔
سیکریٹری نے کہا کہ وزیر منصوبہ بندی ملک سے باہر ہیں ان کو کمیٹی کی تشویش پہنچائی جائے گی، جس پر چیئرپرسن کمیٹی بولیں کہ آج کمیٹی کا 10واں اجلاس ہے اور وزیر نہیں آئے، وزیر مملکت پہلے آتے تھے اب وہ بھی نہیں آتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔