مس میکسیکو کی حمایت میں دیگر حسیناؤں کا احتجاجاً واک آؤٹ، مس یونیورس میں کونسا تنازعہ کھڑا ہوگیا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
مس یونیورس 2025 مقابلے میں ایک تنازعہ سامنے آیا جب مس ورلڈ میکسیکو، فاطہ بوش کو تقریب میں منتظمین نے تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد حسیناؤں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ واک آؤٹ کی قیادت موجودہ مس ورلڈ وکٹوریہ تھیلویگ نے کی۔
دوران تقریب تھائی لینڈ مس یونیورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ناوت اتسارگریسل نے مس میکسیکو فاطمہ بوش کو ایک اسپانسر فوٹو شوٹ مس کرنے پر علانیہ تنقید کا نشانہ بنایا۔
اتسارگرسل نے الزام لگایا کہ فاطمہ بوش نے ’کسی قسم کا احترام نہیں دکھایا‘ اور انہیں ہدایت دی کہ وہ دیگر شرکاء کے سامنے کھڑے ہو کر وضاحت کریں۔ بوش نے اس بات کا جواب دیا کہ وہ اپنے حق کے لیے اپنی آواز استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ اس پر اتسارگرسل نے انہیں ’احمق‘ قرار دیتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں کو انہیں ہال سے نکالنے کی ہدایت دی۔
View this post on Instagram
A post shared by amusestan (@amusestan)
ان کے ہال سے نکالے جانے سے پہلے، درجنوں مقابلہ کنندگان احتجاجاً اپنے سیٹ چھوڑ کر واک آؤٹ کرنے لگیں۔ ویڈیو میں اتسارگرسل کو کہا جا سکتا ہے: ’رکو، رکو، بیٹھ جاؤ‘ اور انہوں نے مقابلہ کنندگان کو ڈسکوالیفائی کرنے کی دھمکی دی، لیکن یہ ان پر اثر نہیں کر سکی۔
ہال کے باہر، 2024 کی ٹائٹل ہولڈر وکٹوریہ تھیلویگ نے بوش کی حمایت میں کہا کہ ’یہ خواتین کے حقوق کا معاملہ ہے۔ ہم ہر کسی کا احترام کرتے ہیں، لیکن دوسروں کو ذلیل کرنا کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنا کوٹ پہن کر جا رہی ہوں‘۔
View this post on Instagram
A post shared by World Beauty Queen Press (@wpressofficial)
بعد ازاں، بوش نے تھائی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ’بیوقوف‘ کہا گیا اور ’خاموش رہنے‘ کا کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں بہترین کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ دنیا یہ دیکھے کہ ہم بااختیار خواتین ہیں اور کوئی ہماری آواز دبانے کی کوشش نہیں کر سکتا‘۔
ایک اور انٹرویو میں فاطمہ بوش نے اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا ’ہم 21ویں صدی میں ہیں، اور میں کوئی گڑیا نہیں ہوں جسے بنایا اور سجا دیا جائے۔ میں یہاں ان تمام خواتین کی آواز بننے آئی ہوں جو مختلف امور کے لیے لڑ رہی ہیں، اور اپنی آواز بلند کرنے سے نہیں گھبراتی‘۔
View this post on Instagram
A post shared by Pageantry_com (@pageantry_com)
واقعے کے کچھ گھنٹے بعد اتسارگرسل نے اپنے ٹک ٹاک پیج پر لائیو جا کر وضاحت کی کہ کچھ مقابلہ کنندگان نے اسپانسرز کے لیے پروموشنل ویڈیوز فلم کرنے سے انکار کیا تھا اور انہیں روزانہ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
انہوں نے معافی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آج کچھ ہوا جس سے آپ خوش نہیں ہیں یا کسی شرکاء کو تکلیف ہوئی، تو میں معافی چاہتا ہوں، اور دنیا بھر کے شائقین سے بھی معذرت کرتا ہوں۔ لیکن براہ کرم ہماری طرف کو بھی سمجھیں‘۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ بوش کا خیال رکھیں گے اور ان کے ساتھ مسئلہ حل کریں گے۔
View this post on Instagram
A post shared by MVLANUEVAERA (@mvlanuevaera)
سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد مس ورلڈ آرگنائزیشن نے ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ تمام پروگرام منصوبہ کے مطابق جاری رہیں گے۔ صدر راؤل روچا کانٹو نے بھی ایک ویڈیو بیان میں ایتسارگرسل کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بے بس عورت کو ذلیل، توہین اور دھمکایا، اور اسے خاموش کرنے اور الگ کرنے کی کوشش کی۔ کانٹو نے اتسارگرسل کے رویے کو ’طاقت کے غلط استعمال‘ اور ’توجہ کے مرکز بننے کی مستقل خواہش‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق آرگنائزیشن نے اعلان کیا کہ اتسارگرسل کی اس سال کے ایونٹس میں شرکت ’محدود‘ کر دی گئی ہے اور آئندہ کارپوریٹ اور قانونی کارروائیوں کے بعد مکمل طور پر ہٹایا جا سکتا ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by Miss Universe (@missuniverse)
کانٹو نے کہا کہ نئے مقرر شدہ CEO ماریو بکارو تھائی لینڈ جائیں گے تاکہ مقابلے کے باقی ایونٹس کی نگرانی کریں، جس سے ایتسارگرسل کی شرکت مزید محدود ہو جائے گی۔ مقابلہ 20 نومبر کو تاج پوشی کی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے واک آؤٹ کے لیے اور ان
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔