ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے صوبے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لیے نیا ٹریفک لائسنس پوائنٹس سسٹم متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے جو دبئی جیسے جدید ٹریفک مانیٹرنگ ماڈل کی طرز پر بنایا گیا ہے۔

نئے نظام کے تحت ہر ٹریفک خلاف ورزی پر ڈرائیور کے لائسنس سے دو سے چار پوائنٹس منفی کیے جائیں گے۔

اگر کسی شہری کے خلاف ایک سال میں 20 پوائنٹس کٹ جائیں تو اس کا ڈرائیونگ لائسنس دو ماہ سے لے کر ایک سال تک معطل کیا جا سکے گا، یہ مدت خلاف ورزی کی سنگینی اور تکرار پر منحصر ہوگی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کل سرکاری دورے پر برازیل روانہ ہوں گی

ٹریفک حکام کے مطابق یہ نیا پوائنٹس بیسڈ سسٹم ان ڈرائیورز کے لیے سخت احتسابی اقدام ہے جو بار بار قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر اوور اسپیڈنگ اور سنگنل توڑنے کی صورت میں چار پوائنٹس منفی کیے جائیں گے، اس کے علاوہ مالی جرمانہ بھی الگ سے عائد کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ نئے ٹریفک قوانین کا مقصد شہریوں میں محتاط اور محفوظ ڈرائیونگ کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔

اس نظام کے تحت جرمانے صرف مالی سزا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے طویل المدتی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔

پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹ اور جائیداد کی لیز پر عائد ٹیکس معطل کر دیا 

ماہرین کے مطابق یہ دوہرا جرمانہ نظام لاپرواہی سے گاڑی چلانے کے رحجان کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوگا اور صوبے بھر میں ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنائے گا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت