کیا بانی پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد جیل کے پہلے قیدی بننے جارہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سابق وزیرِاعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے 2 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، جہاں سے ان کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے وقتاً فوقتاً باتیں کی جاتی رہی ہیں۔
اس ضمن میں وفاقی وزرا، پی ٹی آئی رہنما اور صحافی مختلف اوقات میں بیانات بھی دے چکے ہیں، تاہم ابھی تک یہ ’متوقع منتقلی‘ عمل میں نہیں آ سکی۔
وفاقی وزیرڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے گزشتہ اکتوبر میں عمران خان کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی جیل منتقلی کا کہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کی عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش
وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا اسلام آباد کی جیل تیار ہو چکی ہے یا نہیں، اور کیا عمران خان کو وہاں منتقل کیا جا سکتا ہے؟
اسلام آباد ماڈل جیل کے قیام کا فیصلہ 2009 میں کیا گیا تھا، تاہم 16 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔
اس منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز ایکنک کی منظوری کے بعد 2016 میں کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: عمران خان جیل میں کس حال میں ہیں؟
ابتدائی تخمینے کے مطابق لاگت خرچ ہونے کے باوجود منصوبہ تقریباً 55 فیصد ہی مکمل ہو سکا ہے۔
جبکہ اب اس کی تخمینے کی لاگت دگنی ہو چکی ہے، تاہم یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوا۔
اس منصوبے کی مستقبلِ قریب میں بھی مکمل ہونے کے امکانات کم ہیں، اس لیے عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقلی فی الحال ممکن نظر نہیں آتی۔
مزید پڑھیں: لاپتا ہونے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے بعد اڈیالہ جیل کے مزید 3 افسران برطرف
اسلام آباد ماڈل جیل سیکٹر ایچ 16 میں تعمیر کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ کے زیرِ انتظام سی ڈی اے کی ہے۔
2 ہزار قیدیوں کے لیے مختص اس جیل کے لیے 90 ایکڑ رقبہ حاصل کیا گیا تھا۔
منصوبے کے لیے 27 جولائی 2016 کو قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 3 ارب 92 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی تھی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے حوالے سے کوئی خبر نہیں، بہن علیمہ خان کا اظہار تشویش
جس کے بعد 26 جون 2024 کو سینڑل ڈیولپمنٹ ورکینگ پارٹی نے منصوبے کا نیا تخمینہ 7 ارب 39 کروڑ روپے منظور کیا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق مالی سال 25-2024 میں اس منصوبے کے لیے 1 ارب 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے ایک ارب 29 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں ایک ارب 18 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک اس منصوبے پر مجموعی طور پر 3 ارب 55 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’نوازشریف کی عمران خان سے ملاقات کا امکان، بانی پی ٹی آئی جیل میں نہیں رہیں گے‘
جبکہ منصوبہ مکمل کرنے کے لیے مزید 3 ارب 84 کروڑ روپے درکار ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق اسلام آباد جیل کے انتظامی بلاک کا 96 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
آر سی سی کمپاؤنڈ اور باؤنڈری وال کا 98 فیصد، مرد قیدیوں کی بیرکوں اور سیکیورٹی پوسٹس کا 82 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
اسی طرح جیل اسپتال، کچن، ڈسپینسری اور زیرِ زمین واٹر ٹینکس کا 78 فیصد، جبکہ انفرا اسٹرکچر بشمول سڑکیں، ڈرینیج وغیرہ کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل اسپتال اسلام آباد جیل جیل ڈرینیج ڈسپینسری سینڑل ڈیولپمنٹ ورکینگ پارٹی عمران خان قومی اقتصادی کونسل کچن وزارت داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل اسپتال اسلام آباد جیل جیل ڈسپینسری قومی اقتصادی کونسل کچن وزارت داخلہ مزید پڑھیں اڈیالہ جیل اسلام آباد کروڑ روپے مکمل ہو چکا ہے جیل کے کے لیے
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔